Font by Mehr Nastaliq Web

نہ با گل الفتے دارم نہ بہر خار می گردم

فرد پھلواروی

نہ با گل الفتے دارم نہ بہر خار می گردم

فرد پھلواروی

نہ با گل الفتے دارم نہ بہر خار می گردم

نسیم صبحگاہم من بہر گلزار میگردم

1. نہ تو مجھ کو پھول سے محبت ہے نہ میں کانٹے کے واسطے گھومتا ہوں۔ میں صبح کی خوشگوار ہوا ہوں میں ہر چمن میں گھومتا ہوں۔

بہ بوئے نافۂ کاں جعد مشکینش نہاں دارد

فدائے کوئے عطاریم در تاتار می گردم

2. خوشبوئے نافہ کے لئے جس میں آپ کے جعد مشکیں (گھنگرالی زلف) کی بو پوشیدہ ہے، میں عطار کی گلی پر فدا ہوں اور تاتار میں گھومتا ہوں۔

نہ مئے نے ساغر و نے نشہ نہ آواز مینائیم

نگاہ پاکبازانم بہ چشم یار می گردم

3. (میری نظر) شراب، ساغر، نشہ اور صراحی کی قلقل پر نہیں، بلکہ میں پاکبازوں کی نگاہ میں ہوں اور دوست کی آنکھوں میں گھومتا ہوں۔

من از جام مجیبی تاکشیدم فردؔ یک جرعہ

چومولانا جلال الدیں قلندر وارمی گردم

4. ارے فرد! جب میں نے جام مجیبی سے ایک گھونٹ کھینچ لیا تو مولانا جلال الدین رومی کی طرح قلندر وار گھومتا ہوں۔

مأخذ :
  • کتاب : نغمات الانس فی مجالس القدس (Pg. 248)
  • Author :شاہ ہلال احمد قادری
  • مطبع : دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ (2016)
  • اشاعت : First

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY
بولیے