طالعے کو تا کہ آں ماہ عرب مہر عجم
طالعے کو تا کہ آں ماہ عرب مہر عجم
بر فروزد از کرم ایں کلبۂ ویرانہ ام
کہاں ایسی قسمت کہ وہ عرب کے آفتاب عجم کے ماہتاب اس ویرانے کو بھی اپنے کرم سے روشن کریں۔
بخت رہبر کو کہ من در محفل قدمش رسم
من بہ پایش سرنہم او برسرم دست کرم
کہاں ہے ایسا مقدر کہ میں ان کی محفل قدس میں پہنچوں، میں ان کے قدموں پہ سر رکھوں اور وہ میرے سر پر دست کرم رکھیں۔
گہ زسیل اشک دریائے کنم آں دشت را
گہ زدست شوق صد جیب و گریباں را درم
وہاں اپنا حال (ذوق شوق) یہ ہو کہ کبھی اس صحرا کو اپنے آنسوؤں سے تر کروں، تو کبھی شوق کے ہاتھوں سے اپنا جیب و گریبان تار تار کر ڈالوں۔
گہ ز سرپا سازم از بہر طواف وادیش
ہر دمے صد بوسہ با بر خاک آں وادی دہم
کبھی سر سے پیر کا کام لے کر اس وادی کا طواف کروں ہر لمحہ اس وادی کی خاک کو سینکڑوں بوسہ دوں۔
اے خوشا عیدیکہ میرم اندراں باغ جناں
جسم خاکی را کفن از خاک آں وادی دہم
کتنی اچھی ہے وہ عید کہ میں اس باغ (ریاض الجنۃ یا مدینہ طیبہ) میں مروں اور اپنے جسم خاکی کو اس وادی کی خاک کا کفن دوں۔
چوں زند لاف غلامی فردؔ ناکارہ مگر
خود گدائے را نوازد بادشاہے محترم
یہ ناکارہ فردؔ غلامی کی آخر ڈینگ کیوں مارے؟ وہ محترم بادشاہ جب خود گدا کو نوازتا ہے۔
- کتاب : نغمات الانس فی مجالس القدس (Pg. 249)
- Author :شاہ ہلال احمد قادری
- مطبع : دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ (2016)
- اشاعت : First
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.