Font by Mehr Nastaliq Web

طالعے کو تا کہ آں ماہ عرب مہر عجم

فرد پھلواروی

طالعے کو تا کہ آں ماہ عرب مہر عجم

فرد پھلواروی

MORE BYفرد پھلواروی

    طالعے کو تا کہ آں ماہ عرب مہر عجم

    بر فروزد از کرم ایں کلبۂ ویرانہ ام

    کہاں ایسی قسمت کہ وہ عرب کے آفتاب عجم کے ماہتاب اس ویرانے کو بھی اپنے کرم سے روشن کریں۔

    بخت رہبر کو کہ من در محفل قدمش رسم

    من بہ پایش سرنہم او برسرم دست کرم

    کہاں ہے ایسا مقدر کہ میں ان کی محفل قدس میں پہنچوں، میں ان کے قدموں پہ سر رکھوں اور وہ میرے سر پر دست کرم رکھیں۔

    گہ زسیل اشک دریائے کنم آں دشت را

    گہ زدست شوق صد جیب و گریباں را درم

    وہاں اپنا حال (ذوق شوق) یہ ہو کہ کبھی اس صحرا کو اپنے آنسوؤں سے تر کروں، تو کبھی شوق کے ہاتھوں سے اپنا جیب و گریبان تار تار کر ڈالوں۔

    گہ ز سرپا سازم از بہر طواف وادیش

    ہر دمے صد بوسہ با بر خاک آں وادی دہم

    کبھی سر سے پیر کا کام لے کر اس وادی کا طواف کروں ہر لمحہ اس وادی کی خاک کو سینکڑوں بوسہ دوں۔

    اے خوشا عیدیکہ میرم اندراں باغ جناں

    جسم خاکی را کفن از خاک آں وادی دہم

    کتنی اچھی ہے وہ عید کہ میں اس باغ (ریاض الجنۃ یا مدینہ طیبہ) میں مروں اور اپنے جسم خاکی کو اس وادی کی خاک کا کفن دوں۔

    چوں زند لاف غلامی فردؔ ناکارہ مگر

    خود گدائے را نوازد بادشاہے محترم

    یہ ناکارہ فردؔ غلامی کی آخر ڈینگ کیوں مارے؟ وہ محترم بادشاہ جب خود گدا کو نوازتا ہے۔

    مأخذ :
    • کتاب : نغمات الانس فی مجالس القدس (Pg. 249)
    • Author :شاہ ہلال احمد قادری
    • مطبع : دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ (2016)
    • اشاعت : First

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے