Font by Mehr Nastaliq Web

اے سکۂ جہان لطافت بنام تو

فرد پھلواروی

اے سکۂ جہان لطافت بنام تو

فرد پھلواروی

MORE BYفرد پھلواروی

    اے سکۂ جہان لطافت بنام تو

    جان خواص خاک رہ لطف عام تو

    اے وہ کہ جہاں لطافت میں آپ کے نام کا سکہ چلتا ہے، خواص (امت) کی جان آپ کے رہ کرم کی خاک ہے۔

    صیدے نباشد آں کہ کند رم زدام تو

    اے آنکہ آہوان حرم جملہ رام تو

    کوئی ایسا شکار نہیں کہ آپ کے دام (حسن کرم) سے بھاگ سکے، اے وہ کہ حرم کے تمام ہرن (اہل حرم) آپ کے رام ہو چکے ہیں۔

    در حضرت تو لاف غلامی چساں زنم

    اے خواجۂ ہزار چو من یک غلام تو

    آپ کے حضور میں میں غلامی کا کیا دعویٰ کروں، اے خواجہ (مالک) مجھ جیسے تو ہزاروں آپ کے غلام ہیں۔

    بردارم از در تو من بندہ سر چسپاں

    اے سر خط جبین من آمد بنام تو

    مجھ جیسا غلام آپ کے در سے کیسے سر اٹھائے، میری پیشانی (تقدیر) کا سرنامہ تو آپ ہی کے نام لکھا گیا ہے (آپ کے در سے میری پیشانی کی وابستگی تقدیر کا فیصلہ ہے، قضائے الٰہی نے آپ کی غلامی کا داغ میری پیشانی پر ثبت کردیا ہے، میں آپ سے دور ہو ہی نہیں سکتا)۔

    بس ہست بہر نازشش فردؔ ایں غلامیت

    اے صد ہزار خسرو و دارا غلام تو

    فردؔ کے لیے آپ کا غلام ہونا ہی کافی ہے، آپ کے غلاموں میں تو لاکھوں خسرو و دارا (ایران کے مشہور و بااختیار بادشاہوں جیسے بادشاہ، مثلاً سلاطین ترک، سلاطین سلجوق، سلاطین عرب و عجم وغیرہ) شامل ہیں۔

    مأخذ :
    • کتاب : نغمات الانس فی مجالس القدس (Pg. 280)
    • Author :شاہ ہلال احمد قادری
    • مطبع : دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ (2016)
    • اشاعت : First

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے