اے سکۂ جہان لطافت بنام تو
اے سکۂ جہان لطافت بنام تو
جان خواص خاک رہ لطف عام تو
اے وہ کہ جہاں لطافت میں آپ کے نام کا سکہ چلتا ہے، خواص (امت) کی جان آپ کے رہ کرم کی خاک ہے۔
صیدے نباشد آں کہ کند رم زدام تو
اے آنکہ آہوان حرم جملہ رام تو
کوئی ایسا شکار نہیں کہ آپ کے دام (حسن کرم) سے بھاگ سکے، اے وہ کہ حرم کے تمام ہرن (اہل حرم) آپ کے رام ہو چکے ہیں۔
در حضرت تو لاف غلامی چساں زنم
اے خواجۂ ہزار چو من یک غلام تو
آپ کے حضور میں میں غلامی کا کیا دعویٰ کروں، اے خواجہ (مالک) مجھ جیسے تو ہزاروں آپ کے غلام ہیں۔
بردارم از در تو من بندہ سر چسپاں
اے سر خط جبین من آمد بنام تو
مجھ جیسا غلام آپ کے در سے کیسے سر اٹھائے، میری پیشانی (تقدیر) کا سرنامہ تو آپ ہی کے نام لکھا گیا ہے (آپ کے در سے میری پیشانی کی وابستگی تقدیر کا فیصلہ ہے، قضائے الٰہی نے آپ کی غلامی کا داغ میری پیشانی پر ثبت کردیا ہے، میں آپ سے دور ہو ہی نہیں سکتا)۔
بس ہست بہر نازشش فردؔ ایں غلامیت
اے صد ہزار خسرو و دارا غلام تو
فردؔ کے لیے آپ کا غلام ہونا ہی کافی ہے، آپ کے غلاموں میں تو لاکھوں خسرو و دارا (ایران کے مشہور و بااختیار بادشاہوں جیسے بادشاہ، مثلاً سلاطین ترک، سلاطین سلجوق، سلاطین عرب و عجم وغیرہ) شامل ہیں۔
- کتاب : نغمات الانس فی مجالس القدس (Pg. 280)
- Author :شاہ ہلال احمد قادری
- مطبع : دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ (2016)
- اشاعت : First
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.