اے کہ جاں ہا زندہ از اعجاز لبہائے تو ہست
اے کہ جاں ہا زندہ از اعجاز لبہائے تو ہست
مردگان عہد عیسیٰ را تمنائے تو ہست
اے وہ کہ جس کے لبوں کے اعجاز سے جانوں کو زندگی حاصل ہے، یہاں تک کہ دورِ عیسوی کے مردے بھی آپ کی تمنا کرتے ہیں (کہ کاش آپ انہیں بھی زندگی بخشتے، زندگی سے حیاتِ معنوی اور جلائے باطن مراد ہے)۔
ہا و ہوئے صوفیان و شور رند میکدہ
ہر کجا از ذوق و مستیہائے صہبائے تو ہست
صوفیوں کی با و ہو (ان کے ذکر جہری کی آواز) اور رندوں کا میکدے میں شور (اربابِ حقیقت کا بے خود ہو کر نعرۂ وجد و کیف) ہر جگہ آپ ہی کے صہبا کی مستی کا اثر ہے (ہر جگہ آپ کے عشق الٰہی کے ذوق و مستی کا اثر نمایاں ہے)۔
از نگاہت فردؔ در کوئے توئے خود افتاد
بادۂ بس تند اے ساقی بے مینائے تو ہست
آپ کی نظرِ کیمیا اثر نے فردؔ کو آپ کے کوچہ (اتباع و محبت) میں بے خود کردیا (اب اس پر آپ ہی کی مرضیات غالب ہیں) آپ کی صراحی کی شراب بڑی تیز ہے (آپ کی ذات میں بڑی کشش ہے، آپ کی ذات والا صفات مرکز ثقل ہے)۔
- کتاب : نغمات الانس فی مجالس القدس (Pg. 163)
- Author :شاہ ہلال احمد قادری
- مطبع : دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ (2016)
- اشاعت : First
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.