گر جملہ توئی ہمہ جہاں چیست
گر جملہ توئی ہمہ جہاں چیست
ور ہیچ نیم من ایں فغاں چیست
اگر تو ہی سب کچھ ہے تو پھر یہ دنیا کیا ہے، اور اگر میں کچھ بھی نہیں ہوں تو پھر یہ آہیں اور گریہ و زاری کیا ہیں؟
ہم جملہ توئی و ہم ہمہ تو
آں چیز کہ غیر تست آں چیست
تو ہی سب کچھ ہے اور تو ہی سب ہے، پھر تیرے سوا جو چیزیں نظر آتی ہیں وہ کیا ہیں؟
چوں ہست یقیں کہ نیست جز تو
آوازۂ ایں ہمہ گماں چیست
جب یہ حقیقت ہے کہ تیرے علاوہ کچھ بھی نہیں، تو پھر یہ ساری آوازیں اور کیوں ہیں؟
بر ما چو وجود نیست ما را
چندیں تگ و پوئے در جہاں چیست
جب ہمارے وجود کے سوا ہمارا کچھ بھی نہیں، تو پھر دنیا میں یہ دوڑ دھوپ اور جد و جہد کس لیے ہے؟
جاں در تو ز خویشتن فنا شد
زاں بے خبرست کہ ایں جہاں چیست
جان مجھ سے نکل کر تجھ میں فنا ہو گئی، اب اسے اس بات کی بھی خبر نہیں کہ دنیا کیا ہے۔
عطارؔ ضعیف را از ایں سر
جز گفت میاں تہی نشاں چیست
ضعیف عطار کی یہ باتیں محض ظاہری اور کھوکھلے الفاظ ہیں، حقیقت میں ان کے اندر کچھ نہیں ہے۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.