ہیچ کارم میرؔ حسب مدعا در غم نہ شد
ہیچ کارم میرؔ حسب مدعا در غم نہ شد
مردنے مرکوز خاطر داشتم آں ہم نہ شد
کوئی بھی کام میرؔ غم میں حسبِ مدعا نہیں ہوا
ایک مرنا مر کوزِ خاطر رکھتا تھا، (سو) وہ بھی نہ ہوا
اے فلک طور ستم از دلبر من یاد گیر
ریخت خون یک جہاں از نام و ابرو خم نہ شد
اے فلک میرے دلبر سے ستم کا طریقہ سیکھ
ناز سےایک جہاں کا خون بہا دیا اور ابرو (تک) خم نہیں ہوئے
از عصا و سبحہ و سجّادہ و صوم و صلٰوۃ
رہ نمائے عالمے شد شیخ و خود آدم نہ شد
عصا تسبیح، سجّادہ، اور روزے نماز سے
شیخ ایک دنیا کو ہدایت کرنے والا بن گیا لیکن خود آدمی نہیں بنا
جا بہ چشم مردماں چوں سرمہ کرد از یمن عجز
شد بہ خاک تیرہ یکساں میرؔ و قدرش کم نہ شد
عجز کی تاثیر سے لوگوں کی آنکھوں میں سر مے کی طرح جگہ پائی
میرؔ خاکِ تیرہ میں مل گیا اور اس کی عزت کم نہیں ہوئی
- کتاب : دیوانِ میر فارسی (Pg. 182)
- Author : افضال احمد سید
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.