جادو نگہے راہ زنے چشم سیاہے
آرام ربائے بت سر مست خمارے
وہ سیاہ آنکھوں والا، جادو بھری نگاہوں والا اور دلوں کو لوٹنے والا ہے،
وہ بت سرمست، خمارآلود اور ہر دل کا سکون چرانے والا ہے۔
بیداد گرے کج روشے طرفہ ادائے
آتش فگنے ماہوشے لالہ عذارے
وہ ظلم ڈھانے والا، نرالی اور کج رو چال والا، انوکھی ادا والا ہے، وہ چاند جیسے چہرے والا، شعلہ برسانے والا اور لالہ جیسے رخسار والا ہے۔
تازہ چمنے گل بدنے کبک خرامے
آہو نظرے فتنہ سرے رشک بہارے
تازہ چمن کے پھول سا نازک بدن، کبک کی طرح ناز سے چلنے والا، ہرن جیسی نگاہوں والا، فتنہ اٹھانے والا اور خود بہار کے لیے رشک والا ہے۔
زہرہ صفتے شمع رخے نغمہ سرائے
طناز جوانے صنمے نکتہ گزارے
وہ زہرہ صفت، شمع رخ اور نغمہ سرائی کرنے والا، شوخ صنم ہے جو بات بات میں نکتے پیدا کر دیتا ہے۔
پرسید چو اشرفؔ کہ توئی خلق فریبے
از راہ تبختر سخنے گفت کہ آرے
جب اشرفؔ نے اس سے پوچھا کہ کیا تم واقعی لوگوں کو فریب دیتے ہو؟ تو اس نے غرور بھری ادا سے مسکرا کر بس یہی کہا، ہاں۔
- کتاب : نغمات سماع (Pg. 385)
- مطبع : نور الحسن مودودی صابری (1935)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.