ما خاک رہ شدیم ولے سرو ناز ما
ہرگز قدم نداد بہ روئے نیاز ما
ہم راہ کی خاک ہو گئے، مگر ہمارے محبوب نے
ہماری چاہت پوری کرنے کی عنایت نہ فرمائی
ما دیدہ ایم در رخ خوباں جمال حق
یعنی کہ ہست عین حقیقت مجاز ما
ہم نے محبوب کے چہرے میں خدا کو دیکھا
یعنی ہمارا مجازی ہی حقیقی بن گیا
سوز دروں ز اشک جگر رنگ گشت فاش
بیروں فتاد عاقبت از پردہ راز ما
جگر کے آنسوؤں سے دل کی آگ کا رنگ کھل گیا
اور یوں پردۂ راز بالآخر چاک ہو ہی گیا
گر در نماز دیدہ ای دل نیست بر رخش
مقبول نیست ابن یمیںؔ ایں نماز ما
اگر نماز میں آنکھیں اس چہرے پر مرکوز نہیں
تو اے ابنِ یمین! جان لو کہ تمہاری نماز قبول نہیں
- کتاب : نغمات سماع (Pg. 7)
- مطبع : نورالحسن مودودی صابری (1935)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.