ما سجدہ کنیم دیدۂ دیدار
ما سجدہ کنیم دیدۂ دیدار
زاہد بکند بسوئے دیوار
ہم اس آنکھ کو سجدہ کرتے ہیں جس نے محبوب کا دیدار کیا، زاہد تو صرف دیوار کی طرف سجدہ کرتا ہے۔
مائیم خراب عشق آں یار
دل داۂ حسن روئے دلدار
اس محبوب کی محبت میں ہم برباد ہو گۓ، دلدار کے چہرے کے حسن پر ہم فدا ہیں۔
دل جذب کند جمال محبوب
از خود نرویم سوئے دل دار
جمال محبوب کی طرف دل خود بخود متوجہ ہوتا ہے،ہم خود سے محبوب کے پاس نہیں جاتے۔
از ہستیٔ خویش احمداؔ خیز
دی گفت مرا بگوش آں یار
اے احمد اپنی ہستی کو فنا کر دے، یہ بات کل اس یار نے میرے کان میں کہی۔
- کتاب : نغمات سماع (Pg. 167)
- مطبع : نور الحسن مودودی صابری (1935)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.