مرا سودائے زلفش از خرد بیگانہ می سازد
مرا سودائے زلفش از خرد بیگانہ می سازد
کہ ایں زنجیر عاقل را چو من دیوانہ می سازد
مجھے اس کی زلف کا جنون عقل سے بیگانہ بنا دیتا ہے، یہ زنجیر عقل مندوں کو دیوانہ بنا دیتی ہے۔
من آں ساعت کہ مہرش در دلم جا کرد دانستم
کہ آخر آں صنم ایں کعبہ را بت خانہ می سازد
اس کی محبت نے جس وقت میرے دل میں جگہ بنائی مجھے معلوم ہو گیا کہ وہ صنم اس کعبہ کو بت خانہ بنا کر ہی دم لے گا۔
نمی دانم چیرا با دوست داراں دشمنی دارد
بہ قتل آشنا با مردم بیگانہ می سازد
مجھے نہیں معلوم کہ وہ کیوں دوستوں کے ساتھ دشمنی کرتا ہے، آشناؤں کا قتل کر کے بیگانوں سے دوستی کرتا ہے۔
دلم را از نگاہے برد و رسوائے جہانم کرد
بہ یک افسوں ندانستم مرا افسانہ می سازد
اس نے میرے دل کو ایک ہی نگاہ میں چرا لیا اور مجھے دنیا میں رسوا کر دیا، ایک ہی جادو سے اس نے کیسے مجھے افسانہ بنا دیا۔
دلم پا بست زلفش از فریب خال مشکیں شد
نہ دانستم گرفتارم بہ دام از دانہ می سازد
میرا دل اس کی زلف سے بندھ گیا اور اس کی مشکیں زلف کے فریب میں آ گیا، مجھے نہیں معلوم کیسے اس نے دانہ دے کر مجھے جال میں گرفتار کر لیا۔
خرابم کرد چوں عشق ستم گر خوب دانستم
کہ او ہر کشور معمور را ویرانہ می سازد
اس نے مجھے برباد کر دیا کاش مجھے عشق کے ستم کا علم ہوتا، کہ وہ ہر آباد ملک کو ویران بنا دیتا ہے۔
لئیماں را سخا و جود باشد دشمن جانی
گرامیؔ ایں صفت با ہمت مردانہ می سازد
کم ظرفوں کے ساتھ سخاوت و بخشش کا معاملہ ٹھیک نہیں ہے، اے گرامیؔ! یہ چیزیں باہمت لوگوں ہی کو زیب دیتی ہیں۔
- کتاب : نغمات سماع (Pg. 131)
- مطبع : نور الحسن مودودی صابری (1395)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.