مرحبا اے پیک مشتاقاں بدہ پیغام دوست
تا کنم جاں از سر رغبت فدائے نام دوست
خوش آمدید اے عاشقوں کے قاصد دوست کا پیغام دے، تاکہ میں رغبت سے دوست کے نام پر جان قربان کر دوں۔
والہ و شیداست دایم ہمچو بلبل در قفس
طوطئ طبعم ز شوق شکر و بادام دوست
ہمیشہ دیوانہ اور عاشق ہے قفس میں بلبل کی طرح، میری طبیعت کی طوطی دوست کے بادام اور شکر کے شوق میں۔
زلف او دامست و خالش دانۂ آں دام و من
بر امید دانہ افتادم اندر دام دوست
اس کی زلف جال ہے اور اس جال کا دانہ اس کا تل ہے اور میں، دانہ کی امید میں دوست کے جال میں پھنس گیا ہوں۔
سر ز مستی بر نہ گیرد تا بہ صبح روز حشر
ہر کہ چوں من در ازل یک جرعہ خورد از جام دوست
حشر کے دن کی صبح تک مستی سے سر نہیں اٹھا سکتا، ہر وہ شخص جس نے میری طرح ازل میں دوست کے جام سے ایک گھونٹ پی لیا۔
من نوشتم نامۂ از شرح حال خود ولے
درد سر باشد نمودن بیش ازیں ابرام دوست
میں نے اپنی حالت کی تفصیل کا ایک خط لکھا ہے لیکن، اس سے زیادہ اصرار کرنا دوست کے لئے درد سر ہوگا۔
میل من سوئے وصال و قصد او سوئے فراق
ترک کام خود گرفتم تا بر آید کام دوست
میرا میلان وصال کی طرف ہے اور اس کا ارادہ فراق کی جانب ہے، میں نے اپنے مقصد کو چھوڑ دیا تا کہ دوست کا مقصد پورا ہو جائے۔
گر دہد دستم کشم در دیدہ ہمچوں توتیا
خاک راہ کاں مشرف گردد از اقدام دوست
اگر موقع مل جائے تو آنکھ میں توتیا کی طرح لگا لوں، اس راستہ کی خاک کو جو دوست کے قدموں سے مشرف ہوتی ہے۔
حافظؔ اندر درد و غم می سوز و با درماں مساز
زاں کہ درمانے ندارد درد بے درمان دوست
اے حافظؔ درد اور غم میں جلتا رہ اور علاج نہ کر، اس لئے کہ دوست کے لاعلاج درد سر کا کوئی علاج نہیں ہے۔
- کتاب : دیوان حافظ (Pg. 104)
- Author :حافظ شیرازی
- مطبع : پروگریسو بکس، لاہور
- کتاب : دیوان حافظ (Pg. 98)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.