نہ دارم بیش ازیں تاب جفا من
نہ دارم بیش ازیں تاب جفا من
ترحم کن کہ آخر تا کجا من
میں اس سے زیادہ جفا کی تاب نہیں رکھتا
رحم کھا کر آخر میں کہاں تک (بچوں گا)
رہ دشمن الٰہی بستہ باشد
ہنوز آں بد زباں خوبست با من
الٰہی دشمن کی رہ بند ہوجائے
ابھی تک وہ بد زبان میرے ساتھ خوب (نبھا رہا) ہے
کشی ہر دم صفیرم از پئے سر
تو بلبل نیستی یک روز یا من
بات مختصر ہوگئی جب جان نثار کردی
ساری گفتگو میرے ہی ساتھ رہی ہے
منہ دلبر خراب آباد عالم
خطر گاہست ایں صحرا نہ ما من
ہر وقت (تو) میرا نالہ سر کرنے کےلیے کھینچتی ہے
(اے)بلبل ایک دن یا تو نہیں یا میں (نہیں)
بسان گرد باد از وحشت اے میرؔ
بہ باید بودنت برچیدہ دامن
دنیا کے خراب آباد سے دل نہ لگا
یہ صحرا خطرے کی جگہ ہے، امن کی جگہ نہیں (ہے)
- کتاب : دیوانِ میر فارسی (Pg. 338)
- Author : افضال احمد سید
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.