نفحۂ باد یمنم آرزوست
نفحۂ باد یمنم آرزوست
شورش ویس قرنم آرزوست
مجھ کو ہوائے یمن کے ایک جھونکے کی آرزو ہے۔ اویس قرنی کے شورش عشق کی آرزو ہے۔ (حضرت اویس قرنی تابعی جلیل رضی اللہ عنہ کا عشق رسول مشہور ہے۔ اس لئے اس شعر میں یمن اور اویس قرن کا ذکر ہے)۔
آنکہ بود خیوتنش رشک گل
بوئے ہماں گل بدنم آرزوست
جس محبوب کا قامت جسمانی، رشک گل ہے، اسی گلبدن کی خوشبو کی مجھے آرزو ہے (یعنی رسول اللہ کے جسم شریف کی لطافت کو رشک گل اور گلبدن سے تشبیہ دی گئی ہے)۔
ظل ہما باد بہ سر یا مباد
سایۂ سرو و سمنم آرزوست
سایۂ ہما سر پہ ہو یا نہ ہو (اس کی فکر نہیں البتہ) مجھے سروو سمن کے سایہ کی آرزو ہے۔ (سروو سمن سے ذات رسالت مراد ہے۔ ہما کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ایسا پرندہ ہے جو کسی کے سر پر سایہ فگن ہوجائے تو وہ بادشاہ بن جاتا ہے۔ شاعر گرامی کو یہاں ظل نبوی کے مقابلے میں اس کی کچھ تمنا نہیں)۔
ساقی و جام است و گل و نو بہار
دلبر تقویٰ شکنم آرزوست
ساقی وجام ہے، پھول ہے، اور بہار کا آغاز ہے، ایسی فضا میں دلبر تقویٰ شکن کی مجھے آرزو ہے۔ (دلبر سے محبوب و معشوق، یعنی ذات رسالت مراد ہے۔ تقویٰ شکن سے کمال حسن مراد ہے یعنی معشوقان مجازی جب حسن وجمال کے ساتھ سامنے آتے ہیں تو بڑے بڑے زاہدوں کا تقویٰ ٹوٹ جاتا ہے۔ یہاں آنحضرت کا حسن وجمال مراد ہے، جو ہر اعتبار سے مکمل تھا۔ اس کا تقویٰ شکن ہونا محض تشبیہ ہے کمال حسن کی ورنہ جمال باکمال نبوی پر نظر پڑنے سے تو دیکھنے والوں سے کفر وشرک اور فسق وفجور کے اثرات زائل ہوجاتے تھے)۔
محیؔ ازیں طرز سخن آوری
یاد شہ بوالحسنم آرزوست
اے محی تمہارے اس طرز شکن سے مجھے شاہ ابو الحسن کی یادآرہی ہے۔ (اسی طرز میں حضرت فرد کی غزل بھی ہے، اسی طرف اشارہ ہے)۔
- کتاب : نغمات الانس فی مجالس القدس (Pg. 172)
- Author : شاہ ہلال احمد قادری
- مطبع : دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ (2016)
- اشاعت : First
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.