Sufinama

نمی دانم چہ منزل بود شب جائے کہ من بودم

امیر خسرو

نمی دانم چہ منزل بود شب جائے کہ من بودم

امیر خسرو

MORE BYامیر خسرو

    دلچسپ معلومات

    نوٹ: اس غزل کے دو مقطع دیے گئے ہیں ایک رائج ہے دوسرا ’نغمات سماع‘ سے ہے۔ اس غزل کا ترجمہ: احمد علی برقیؔ اعظمی کا ہے۔

    نمی دانم چہ منزل بود شب جائے کہ من بودم

    بہ ہر سو رقص بسمل بود شب جائے کہ من بودم

    کل رات جہاں میں تھا وہ ایک انجان جگہ تھی

    کل جہاں میں تھا ہر طرف زخمیوں کا رقص ہو رہا تھا

    پری پیکر نگارے سرو قدے لالہ رخسارے

    سراپا آفت دل بود شب جائے کہ من بودم

    کل رات جہاں میں تھا لالہ چہرے، لمبے قد اور پری جیسے لوگ

    ہمارے دل کے لیے آفت بنے ہوئے تھے

    رقیباں گوش بر آواز او در ناز و من ترساں

    سخن گفتن چہ مشکل بود شب جائے کہ من بودم

    کل رات جہاں میں تھا تمام رقیب اس کی بات پر کان دھرے ہوئے تھے

    وہ غرور میں تھا اور میں ڈرا تھا، وہاں بات کرنا بھی مشکل ہو گیا تھا

    خدا خود میر مجلس بود اندر لا مکاں خسروؔ

    محمدؐ شمع محفل بود شب جائے کہ من بودم

    اے خسروؔ کل جہاں میں تھا وہاں خدا خود میر مجلس تھا

    جب کہ محمد ؐشمع محفل تھے

    مرا از آتش عشق تو دامن سوخت اے خسروؔ

    محمدؐ شمع محفل بود شب جائے کہ من بودم

    اے خسروؔ عشق کی آگ نے میرا دامن جلا ڈالا

    کل رات جہاں میں تھا وہاں محمدؐ خود شمع محفل تھے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نصرت فتح علی خان

    نصرت فتح علی خان

    اویس رضا قادری

    اویس رضا قادری

    فرید ایاز

    فرید ایاز

    مأخذ :
    • کتاب : نغمات سماع (Pg. 228)
    • مطبع : نورالحسن مودودی صابری (1935)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY