نمی خواہم کہ ما را بر سر افلاک بنشانی
نمی خواہم کہ ما را بر سر افلاک بنشانی
بکوئے خویشتن یک دم بہ روئے خاک بنشانی
مجھے آرزو نہیں ہے اے حبیبِ دو عالم کہ آپ مجھے بلند و بالا تخت پر بٹھائیں۔ اپنی گلی میں تھوڑی دیر کے لئے زمین ہی پر بٹھائیے۔
تکلف بر طرف کن از من مسکیں چہ اندیشی
چہ باشد گر بہ بزم خود مرا بے باک بنشانی
مجھ بےمایہ ومفلس سے کیا خوف ہے۔ تکلف کو ترک کرتے ہوئے اپنی مجلس کا اذن مجھے بخش دیجئے، کیا بگڑے گا اگر آپ مجھے اپنی بزم میں بے باکانہ بٹھائیں گے۔
چو دلہا شاد گردانی ز فیض رحمت عامت
مبادا نصرؔ را با خاطر غمناک بنشانی
جب آپ اپنی رحمت کے فیض عام سے دلوں کو شاد فرماتے ہیں تو کہیں ایسا نہ ہو کہ اپنے نصر کو غمگین ومحزون بیٹھا چھوڑ دیں۔
- کتاب : نغمات الانس فی مجالس القدس (Pg. 318)
- Author :شاہ ہلال احمد قادری
- مطبع : دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ (2016)
- اشاعت : First
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.