Font by Mehr Nastaliq Web

قد بدا مشہد مولائی انیخوا جملی

جامی

قد بدا مشہد مولائی انیخوا جملی

جامی

MORE BYجامی

    قد بدا مشہد مولائی انیخوا جملی

    کہ مشاہد شد ازاں مشہدم انوار جلی

    میرے مولیٰ کا مشہد ظاہر ہوگیا (مشہد علی مرتضیٰ) اے لوگو! میرا اونٹ یہیں بٹھا دو، کہ اس مشہد کے انوار میرے سامنے ظاہر ہورہے ہیں (اب اونٹ پر سوار رہنا خلاف ادب ہے۔ مشہد یعنی جائے شہادت، مراد حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا روضۂ شریفہ ہے)۔

    رویش آں مظہر صافیست کہ در صورت اصل

    آشکار است ازو عکس جمال ازلی

    ان کا چہرہ (روئے علی) وہ مظہر صافی ہے (مظہر مصفّا) کہ درحقیقت اس سے جمال ازلی (انوارِ الٰہی) آشکارا ہے (یعنی حضرت علی کا روئے مبارک اس صاف شیشے کی طرح ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے ازلی جمال کا عکس وپرتو نمایاں ہے)۔

    زندهٔ عشق نہ مردہ است نہ میرد ہرگز

    لا یزالی بود ایں زندگی لم یزلی

    عشق (الٰہی) کے ساتھ جینے والا نہ مرا نہ کبھی مرے گا، یہ دائمی زندگی مٹنے والی نہیں ہے(یعنی جس کا دل عشق الٰہی سے زندہ ہے اس کی زندگی فنا پذیرہوئی نہ ہوگی)۔

    جامیؔ از قافلہ سالار رہ عشق ترا

    گر بہ پرسند کہ آں کیست علی گوئے علی

    جامی! راہ عشق (الٰہی) کے قافلہ سالار کے بارے میں لوگ پوچھیں کہ وہ کون ہے؟ تم کہہ دوکہ وہ علی ہیں علی (کرم اللہ وجہہ ووجوہ ابنائہ الکرام)۔

    مأخذ :
    • کتاب : نغمات الانس فی مجالس القدس (Pg. 299)
    • Author :شاہ ہلال احمد قادری
    • مطبع : دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ (2016)
    • اشاعت : First

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے