قطرہ ہائے اشک باشد گوہر عمان عشق
قطرہ ہائے اشک باشد گوہر عمان عشق
پارہ ہائے دل بود یاقوت و لعل کان عشق
اشکوں کے قطرے عشق کے سمندر کے قیمتی موتی ہیں، اور دل کے ٹکڑے عشق کی کان کے یاقوت و لعل ہیں۔
آں کہ خواہد بازیٔ طفلانہ در میدان عشق
از سر خود گوئے می سازد پئے چوگان عشق
جو شخص عشق کے میدان میں بچوں کی طرح کھیل کھیلنا چاہتا ہے، وہ اپنے ہی سر کو میدان عشق کے لیے گیند بنا لیتا ہے۔
زلف او سرنامہ ای باشد کتاب حسن را
مد آہ ما بود بسم اللہ قرآن عشق
اس کی زلفیں کتابِ حسن کا دیباچہ ہیں، اور ہماری آہ کی مدت عشق کے قرآن کی بسم اللہ ہے۔
نیست اینجا طاقت مردن نہ تاب زیستن
ہست صحراۓ قیامت اے حسنؔ میدان عشق
یہاں نہ مرنے کی طاقت ہے اور نہ جینے کا حوصلہ، اے حسنؔ! عشق کا میدان گویا قیامت کا صحرا ہے۔
- کتاب : نغمات سماع (Pg. 190)
- مطبع : نورالحسن مودودی صابری (1935)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.