قبلۂ ذرات عالم روئے تست
قبلۂ ذرات عالم روئے تست
کعبۂ اولاد آدم سوئے تست
دنیا کے ذروں کا قبلہ تمہارا چہرہ ہے، اولادِ آدم کا کعبہ بھی تم ہی ہو۔
میل خلق ہر دو عالم تا ابد
گر شناسند و اگر نہ سوئے تست
قیامت تک دونوں جہانوں کے لوگوں کی طلب تم ہی ہو، لوگ اس بات کو مانیں یا نہ مانیں۔
ہر پریشانی کہ در ہر دو جہاں
ہست و خواہد بود از گیسوئے تست
دونوں جہانوں میں جو بھی پریشانی ہے، اس کا سبب صرف اور صرف تمہاری زلفیں ہیں۔
ہر کجا در ہر دو گیتی فتنہ ایست
ترکتاز طرۂ ہندوئے تست
دونوں جہانوں میں جہاں کہیں بھی ہنگامہ برپا ہے، وہ تمہارے تل ہی کا کرشمہ ہے۔
نیست پنہاں آں کہ از من دل ربود
ہست ہمچوں آفتاب آں روئے تست
جس نے میرا دل چرا لیا سب جانتے ہیں کہ وہ سورج کی طرح چمکنے والا تمہارا ہی چہرہ ہے۔
ایں ہمہ عطارؔ دور از روئے تو
درد ازاں دارد کہ دور از روئے تست
اے عطار! یہ سب باتیں تمہاری نگاہ سے اوجھل ہیں، یہ درد وہاں سے اٹھتا ہے جہاں تمہاری نظر نہیں پہنچتی۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.