ساقی بہ نور بادہ بر افروز جام ما
مطرب بگو کہ کار جہاں شد بکام ما
اے ساقی شراب کے نور سے ہمارا جام روشن کر دے، گویئے گا دنیا کا کام ہماری منشاء کے مطابق ہو گیا ہے۔
ما در پیالہ عکس رخ یار دیدہ ایم
اے بے خبر ز لذت شرب مدام ما
ہم نے پیالے میں یار کے رخ کا عکس دیکھا ہے، اے بے خبر ہمارے شراب کے پینے کی لذت سے۔
چنداں بود کرشمہ و ناز سہی قداں
کآید بجلوہ سرد صنوبر خرام ما
سیدھے قد معشوقوں کا کرشمہ اور ناز اُسی وقت تک ہے، جب تک کہ ہمارا سرو صنوبر کی طرح ٹہلنے والا جلوہ میں آئے۔
ہرگز نمیرد آں کہ دلش زندہ شد بعشق
ثبتست بر جرید عالم دوام ما
جس کا دل عشق کی وجہ سے زندہ ہو گیا وہ کبھی نہیں مرتا، ہماری ہمیشگی دنیا کی تاریخ میں قایم ہو چکی ہے۔
مستی بچشم شاہد دلبند ما خوش ست
زآں رو سپردہ اند بمستی زمام ما
ہمارے دل پسند معشوق کی نظر میں مستی بھلی ہے، اسی وجہ سے ہماری باگ انھوں نے مستی کے ہاتھ میں دیدی ہے۔
ترسم کہ صرفۂ نبرد روز باز خواست
نانِ حلالِ شیخ ز آب حرام ما
مجھے اندیشہ ہے کہ قیامت کے دن غلبہ نہ پا سکے گی، شیخ کی حلال روٹی ہمارے حرام پانی سے۔
اے باد گر بگلشن احباب بگذری
زنہار عرضہ دہ بر جاناں پیام ما
اے ہوا اگر تو دوستوں کے چمن سے گذرے، تو ضرور معشوق پر ہمارا پیغام پیش کر دیجو۔
گو نام ما ز یاد بعمدا چہ می بری
خود آید آنکہ یاد نیاری ز نام ما
کہہ دینا جان بوجھ کر ہمارا نام کیوں بھلاتا ہے، وہ دن خود آ رہا ہے جب تو ہمارا نام یاد نہ کرے گا۔
بگرفت ہمچو لالہ دلم در ہوائے سرد
اے مرغ بخت کے شوی آخر تورام ما
سرو کی محبت میں لالہ کی طرح میرا دل گرفتار ہو گیا ہے، اے نصیبہ کے پرند تو ہمارے قبضہ میں کب آئے گا؟
دریائے اخضر فلک و کشتی بلال
ہستند غرق نعمت حاجی قوام ما
آسمان کا سبز دریا اور چاند کی کشتی، ہمارے حاجی قوام الدین کی نعمتوں میں غرق ہیں۔
حافظؔ ز دیدہ دانۂ اشک ہمیں فشاں
باشد کہ مرغ وصل کند قصد دام ما
حافظ آنکھوں سے آنسوؤں کا دانہ بکھیر، شاید وصال کا پرند ہمارے جال کا قصد کرے۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.