Font by Mehr Nastaliq Web

ساقی بہ نور بادہ بر افروز جام ما

حافظ

ساقی بہ نور بادہ بر افروز جام ما

حافظ

MORE BYحافظ

    ساقی بہ نور بادہ بر افروز جام ما

    مطرب بگو کہ کار جہاں شد بکام ما

    اے ساقی شراب کے نور سے ہمارا جام روشن کر دے

    اے مطرب نغمہ سرا ہو، دنیا کا کام ہماری منشا کے مطابق ہوگیا ہے

    ما در پیالہ عکس رخ یار دیدہ ایم

    اے بے خبر ز لذت شرب مدام ما

    ہم نے پیالے میں اپنے محبوب کے چہرے کی جھلک دیکھی ہے

    اے نادان! تم ہماری اس دائمی سرشاری کی لذت سے واقف ہی نہیں۔

    ہرگز نمیرد آں کہ دلش زندہ شد بعشق

    ثبتست بر جرید عالم دوام ما

    وہ شخص کبھی نہیں مرتا جس کا دل عشق سے زندہ ہو جائے،

    ہماری بقا اور دوام کا نام کائنات کے دفتر میں لکھ دیا گیا ہے۔

    حافظؔ ز دیدہ دانۂ اشک ہمیں فشاں

    باشد کہ مرغ وصل کند قصد دام ما

    حافظؔ آنکھوں سے آنسوؤں کا دانہ بکھیر

    شاید وصال کا پرندہ ہمارے جال کا قصد کرے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے