ساقی بہ نور بادہ بر افروز جام ما
مطرب بگو کہ کار جہاں شد بکام ما
اے ساقی شراب کے نور سے ہمارا جام روشن کر دے
اے مطرب نغمہ سرا ہو، دنیا کا کام ہماری منشا کے مطابق ہوگیا ہے
ما در پیالہ عکس رخ یار دیدہ ایم
اے بے خبر ز لذت شرب مدام ما
ہم نے پیالے میں اپنے محبوب کے چہرے کی جھلک دیکھی ہے
اے نادان! تم ہماری اس دائمی سرشاری کی لذت سے واقف ہی نہیں۔
ہرگز نمیرد آں کہ دلش زندہ شد بعشق
ثبتست بر جرید عالم دوام ما
وہ شخص کبھی نہیں مرتا جس کا دل عشق سے زندہ ہو جائے،
ہماری بقا اور دوام کا نام کائنات کے دفتر میں لکھ دیا گیا ہے۔
حافظؔ ز دیدہ دانۂ اشک ہمیں فشاں
باشد کہ مرغ وصل کند قصد دام ما
حافظؔ آنکھوں سے آنسوؤں کا دانہ بکھیر
شاید وصال کا پرندہ ہمارے جال کا قصد کرے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.