سر پائے تو یا رسول اللہؐ
سر پائے تو یا رسول اللہؐ
دل گدائے تو یا رسول اللہؐ
سر آپ کے قدموں پر ہے یا رسول اللہ!
جان آپ پر فدا ہے یا رسول اللہ۔
دلکش و دلربائے خوباں است
ہر ادائے تو یا رسول اللہؐ
آپ کی ہر ادا دلکش اور حسینوں میں
دلربا ہے یار سول اللہ! (یعنی تمام حسینوں سے بڑھ کر دلربا ہے)۔
دیدہ و سینہ و دل و رگ جاں
ہمہ جائے تو یا رسول اللہؐ
دیدہ، سینہ، دل اور رگ جاں، سب جگہ آپ ہیں یا رسول اللہ۔
بس گزیدیم من ز ہر دوسرا
یک سرائے تو یا رسول اللہؐ
ہر دو سرا (دنیا وآخرت) میں بس آپ کی ایک سرا
(جہان رسول) میں نے اختیار کر لیا ہے۔
من چگویم چوں ثنا گوید
خود خدائے تو یا رسول اللہؐ
میں آپ کی کیا تعریف کروں یا رسول اللہ!
آپ کی تعریف تو خود آپ کا اللہ کرتا ہے۔
جائے نعلین ہر دو چشمم باد
کفش پائے تو یا رسول اللہؐ
(کاش) آپ کی نعلین کی جگہ یہ دونوں آنکھیں،
آپ کا کفش پا (جوتی) ہوں یا رسول اللہ۔
گرد بادیم بسکہ سرگرداں
در ہوائے تو یا رسول اللہؐ
میں ایک بگولے کی طرح ہو ں، جو آپ کی طلب میں
(یا آپ کی فضا میں) چکراتا رہوں، یا رسول اللہ۔
می دہد جان و خان و مان محیؔ
بہ لقائے تو یا رسول اللہؐ
آپ کی لقا (دیداروملاقات) پر محی اپنی جان،
اپنا مال، اپنا گھر لٹا رہاہے یا رسول اللہ۔
- کتاب : نغمات الانس فی مجالس القدس (Pg. 290)
- Author :شاہ ہلال احمد قادری
- مطبع : دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ (2016)
- اشاعت : First
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.