تا عشق تو در سینۂ پر درد نہاں بود
آرام تن و نور دل و مونس جاں بود
جب تک تمہارا عشق اس درد بھرے سینے میں پنہاں تھا، تن کا آرام، دل کا نور اور جان کا غم خوار میسر تھا۔
ایام خوش آں بود کہ در کوئے تو بودم
آسائشے از عمر اگر بود ہماں بود
وہ لمحے نہایت حسین تھے جب میں تمہارے کوچے میں تھا، زندگی کا آرام اگر کہیں تھا تو وہیں تھا۔
تا دور فلک بود و زمیں بود و زماں بود
افسانۂ عشق من و حسنت بہ میاں بود
جب تک آسمان، زمین اور یہ دنیا رہے گی، میرے عشق اور تمہارے حسن کا افسانہ موجود رہے گا۔
با غیر تو پیمانہ کشیدی و گرامیؔ
در بزم تو بے چارہ ز خوں نابہ کشاں بود
تو غیروں کے ساتھ مے کشی کر رہا ہے اور یہ بیچارا 'گرامی'، تمہاری بزم میں خون کے آنسو رو رہا ہے۔
- کتاب : نغمات سماع (Pg. 132)
- مطبع : نور الحسن مودودی صابری (1935)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.