تو جان پاکے سر بہ سر نے آب و خاک اے نازنیں
تو جان پاکے سر بہ سر نے آب و خاک اے نازنیں
واللہ ز جاں ہم پاک تر روحی فداک اے نازنیں
اے نازنین! تمہاری ذات پاکیزہ ہے،تمہاری تخلیق آب و خاک سے نہیں ہے۔
خدا کی قسم! ہم تو جان سے بھی بڑھ کر پاک ہے، میری روح تم پر قربان ہو، اے نازنین!
پاکاں نہ دیدہ روئے تو جاں دادہ اندر بوئے تو
اینک بگرد کوئے تو صد جان پاک اے نازنیں
اے نازنین! پاکیزہ لوگ تمہارا چہرہ دیکھے بغیر ہی تمہاری خوشبو پر اپنی جان نثار کر بیٹھے ہیں۔
اب تو تمہاری گلی کے گردسینکڑوں پاکیزہ جانیں فدا ہونے کے لیے بے قرار ہوکر چکر لگا رہے ہیں۔
رفتی بہ گلگشت چمن گل دید لطف آں بدن
از شوق آں برخویشتن زد جامہ پاک اے نازنیں
اے نازنین! جب تم چمن کی سیر کو گئے اور پھولوں نے تمہارے بدن کی لطافت دیکھی،
تو شوق میں بے قابو ہوکر انہوں نے اپنے جامے چاک کر ڈالے۔
گر شد چو لالہ پیکرم غرقہ بہ خوں کے غم خورم
ایں بس کہ بر دل می برم داغت بہ خاک اے نازنیں
اے نازنین! اگر میرا جسم لالہ کی طرح خون میں ڈوبا ہوا ہے، تو اس کا سبب تیرے غم کا بوجھ ہے۔
میں تیرے داغِ محبت کو اپنے دل پر لیے پھر رہا ہوں، یہاں تک کہ مٹی میں مل گیا ہوں۔
دارم ز غم بیماریٔ بیمار غم را یارئ
گر تو کنی غم خواریٔ از غم چہ باک اے نازنیں
اے نازنین! مجھے غم کی بیماری لگ چکی ہے، اور میرے غم کا چارہ ساز تو ہی ہے۔
اگر تم ذرا سی غم خواری کر لو، تو پھر اس غم کا کیا خوف رہ جائے گا؟
با آں کہ دردم شد قوی خواہم فغانم بشنوی
ترسم کہ بہر من شوی اندیشہ ناک اے نازنیں
اے نازنین! جامیؔ جس کا تم سے دل و جان کا رشتہ ہے،
وہ تم سے کبھی منہ نہیں موڑے گا،
جامیؔ کہ دارد با تو خوں ہرگز نہ تابد از تو رو
گر خود نہی بر فرق او تیغ ہلاک اے نازنیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.