Font by Mehr Nastaliq Web

ترک من اے من غلام روئے تو

فخرالدین عراقی

ترک من اے من غلام روئے تو

فخرالدین عراقی

MORE BYفخرالدین عراقی

    ترک من اے من غلام روئے تو

    جملہ ترکان جہاں ہندوئے تو

    میرے ترک میں تمہارے چہرے کا غلام ہوں، دنیا کے تمام ترک تمہارے عاشق ہیں۔

    لعل تو شیریں تر از آب حیات

    خوشتر از ماہ تمامے روئے تو

    تمہارے لب آب حیات سے زیادہ شیریں ہیں، تمہارا چہرہ ماہ تمام سے بھی زیادہ حسین ہے۔

    خرم آں عاشق کہ بیند آشکار

    بامداداں طلعت نیکوئے تو

    اس عاشق کا کیا کہنا جو تمہیں آشکار دیکھے، صبح کے وقت تمہارے حسین چہرے کا دیدار کرے۔

    غمزۂ خونخوار تو کرد آنچہ کرد

    تا چہ خواہد کرد با ما خوئے تو

    تمہارے خونخوار چہرے نے جو کیا سو کیا، تمہاری خصلتیں میرے ساتھ کب تک ایسا کرتی رہیں گی۔

    ہم بہ بیند جاں جمال تو عیاں

    چوں نہاں شد در خم گیسوئے تو

    میری جان تمہارے جمال کو عیاں دیکھتی ہے، جب یہ تمہارے خمدار گیسو میں گم ہو جاتی ہے۔

    ہر زماں جائے دگر پے گم کنی

    تا عراقیؔ رہ نہ یابد سوئے تو

    تو ہر وقت ایک نئی جگہ تلاش کرتا رہتا ہے، تا کہ عراقی کو تمہارے در کا پتہ نہ مل پائے۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے