ترک من اے من غلام روئے تو
ترک من اے من غلام روئے تو
جملہ ترکان جہاں ہندوئے تو
میرے ترک میں تمہارے چہرے کا غلام ہوں، دنیا کے تمام ترک تمہارے عاشق ہیں۔
لعل تو شیریں تر از آب حیات
خوشتر از ماہ تمامے روئے تو
تمہارے لب آب حیات سے زیادہ شیریں ہیں، تمہارا چہرہ ماہ تمام سے بھی زیادہ حسین ہے۔
خرم آں عاشق کہ بیند آشکار
بامداداں طلعت نیکوئے تو
اس عاشق کا کیا کہنا جو تمہیں آشکار دیکھے، صبح کے وقت تمہارے حسین چہرے کا دیدار کرے۔
غمزۂ خونخوار تو کرد آنچہ کرد
تا چہ خواہد کرد با ما خوئے تو
تمہارے خونخوار چہرے نے جو کیا سو کیا، تمہاری خصلتیں میرے ساتھ کب تک ایسا کرتی رہیں گی۔
ہم بہ بیند جاں جمال تو عیاں
چوں نہاں شد در خم گیسوئے تو
میری جان تمہارے جمال کو عیاں دیکھتی ہے، جب یہ تمہارے خمدار گیسو میں گم ہو جاتی ہے۔
ہر زماں جائے دگر پے گم کنی
تا عراقیؔ رہ نہ یابد سوئے تو
تو ہر وقت ایک نئی جگہ تلاش کرتا رہتا ہے، تا کہ عراقی کو تمہارے در کا پتہ نہ مل پائے۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.