Font by Mehr Nastaliq Web

تو جان پاکی سر بہ سر نے آب و خاک اے نازنیں

جامی

تو جان پاکی سر بہ سر نے آب و خاک اے نازنیں

جامی

MORE BYجامی

    تو جان پاکی سر بہ سر نے آب و خاک اے نازنیں

    واللہ ز جاں ہم پاک تر روحی فداک اے نازنیں

    آپ کا وجود مبارک آب وگل کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ آپ سر سے پیر تک نورانی و روحانی لطافتوں کے جامع ہیں۔ بخدا آپ روح سے بھی زیادہ لطیف وپاک تر ہیں۔ میری جان آپ پر فدا ہو اے نازنین، یعنی وہ جس کی سب ناز برداری کریں، اردو میں نازنین کا لفظ عموماً عورتوں کے لئے مستعمل ہے، یہاں اپنے اصل معنی میں ہے)۔

    پاکاں نہ دیدہ روئے تو جاں دادہ اندر بوئے تو

    اینک بگرد کوئے تو صد جان پاک اے نازنیں

    پاک لوگوں نے (اولیا اللہ نے) آپ کا روئے انور نہیں دیکھا بلکہ آپ کی خوشبو پر جان دے دی۔ ابھی بھی آپ کی گلی کے گرد سینکڑوں پاک دل گھوم رہے ہیں۔

    دارم ز غم بیماریٔ بیمار غم را یاوری

    گر تو کنی غمخواریٔ از غم چہ باک اے نازنیں

    میں عشق کی بیماری رکھتا ہوں اس مریضِ عشق کی مدد کیجئے، اگر آپ غمخواری کریں اے نازنین تو پھر غم سے کوئی خوف نہیں ہے (عشاق غم دیدہ کے لئے آپ سے بڑھ کر غم خوار کون ہوسکتا ہے)۔

    جامیؔ کہ دارد با تو خو ہرگز نہ تابد از تو رو

    گر خود نہی بر فرق او تیغ ہلاک اے نازنیں

    جامی آپ سے عشق رکھتا ہے، ہر گز آپ سے منہ نہیں موڑے گا، اگر چہ اے محبوب! آپ ا س کے سر پر ہلاکت کی تلوار رکھ دیں (یعنی ہر حال میں آپ کا وفادار ہے)۔

    مأخذ :
    • کتاب : نغمات الانس فی مجالس القدس (Pg. 260)
    • Author :شاہ ہلال احمد قادری
    • مطبع : دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ (2016)
    • اشاعت : First

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے