یا رسول اللہ بہ درگاہت پناہ آوردہ ام
ہمچو کاہ عاجزم کوہ گناہ آوردہ ام
اے اللہ کے رسول ﷺ! میں آپ کی بارگاہ میں پناہ لینے حاضر ہوا ہوں،
حقیر گھاس کی طرح ہوں، مگر گناہوں کا پہاڑ ساتھ لایا ہوں۔
غیر تو ملجا و ماویٰ نیست در ہر دو سرا
رحم کن یا سیدی حال تباہ آوردہ ام
دونوں جہان میں آپ کے سوا میرا کوئی ٹھکانا نہیں،
اے میرے سردار! رحم فرمائیے، میں تباہ حال آیا ہوں۔
گرچہ عصیاں بے عدد اما نظر بر رحمتت
آیہ لا تقنطو بر خود گواہ آوردہ ام
اگرچہ میرے گناہ بے شمار ہیں، مگر نگاہ آپ کی رحمت پر ہے،
میں ’لَا تَقْنَطُوا‘ کی آیت کو اپنے حق میں گواہ بنا کر لایا ہوں۔
جز تو دیگر دست گیرم نیست در دنیا و دیں
باہزاراں انفعالے رو سیاہ آوردہ ام
دین و دنیا میں آپ کے سوا میرا کوئی مددگار نہیں،
ہزاروں شرمندگیاں اور روسیاہی اپنے ساتھ لیے آیا ہوں۔
چار چیز آوردہ ام شاہا کہ در گنج تو نیست
بے کسی و نا کسی عجز و گناہ آوردہ ام
اے بادشاہ! میں ایسی چار چیزیں لایا ہوں جو آپ کے خزانوں میں نہیں،
میں بے کسی، ناتوانی، عاجزی اور گناہ لے کر آیا ہوں۔
از جمال خود مشرف کن کہ تا یابم شرف
ایں کمالؔ آرزو در بارگاہ آوردہ ام
اپنے جمال سے نواز دیجئے تاکہ مجھے شرف حاصل ہو،
یہی آرزو میں آپ کی بارگاہ میں لے کر آیا ہوں۔
- کتاب : نغمات سماع (Pg. 220)
- مطبع : نور الحسن مودودی صابری (1935)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.