در ہر کہ نظر کردم جز روئے تو روئے تو
در ہر کہ نظر کردم جز روئے تو روئے تو
ہر جا کہ گذرکردم جز کوئے تو کوئے تو
میں نے جدھر دیکھا تمہارے چہرے کے سوا دوسرا چہرہ نظر نہیں آیا، جدھر سے گذرا تمہاری گلی کے سوا دوسری گلی نہ پائی۔
گرمشک و گلاب و عطر ارصندل و گل باشد
از ہر چہ شمیدم من جز بوئے تو بوئے تو
خواہ مشک و گلاب ہو عطر اور صندل و گل ہو، جو کچھ بھی سونگھا، تمہاری بو کے سوا کوئی بو نہ پائی۔
در ہر دل و ہر دیدہ در ہرسرو ہر سینہ
موجود ترا دیدم جز ہوئے تو ہوئے تو
ہر دل اور ہر آنکھ میں ہر سینہ اور ہر سر میں تجھی کو موجود پایا، تیری ذات کے سوا کوئی دوسری ذات نہ پائی۔
ہر خوئے خودش بر کن وزخوئے خودش پر کن
اے فردؔ غلام تو جز خوئے تو خوئے تو
اس کی ہر عادت و خصلت کو اس کے اندر سے نکال دے اور اپنی صفات سے اس کو بھر دے، اے کہ فرد تمہارا غلام ہے، تمہاری سیرت و خصلت کے سوا کوئی سیرت و خصلت نہیں (یہ غزل نعتیہ بھی ہو سکتی ہے اور حمد میں بھی شامل کی جا سکتی ہے، مقطع کا مفہوم یہ ہے کہ فرد کے اندر سے اس کی تمام عادات و خصائل کو نکال کر اپنی عادات وخ صائل کو فرد کے باطن میں منتقل کر دو، کیونکہ اس محبوب کی سیرت و عادت ہی قابل قبول ہے اس کے سوا کچھ نہیں)۔
- کتاب : نغمات الانس فی مجالس القدس (Pg. 287)
- Author :شاہ ہلال احمد قادری
- مطبع : دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ (2016)
- اشاعت : First
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.