Font by Mehr Nastaliq Web

در ہر کہ نظر کردم جز روئے تو روئے تو

فرد پھلواروی

در ہر کہ نظر کردم جز روئے تو روئے تو

فرد پھلواروی

MORE BYفرد پھلواروی

    در ہر کہ نظر کردم جز روئے تو روئے تو

    ہر جا کہ گذرکردم جز کوئے تو کوئے تو

    میں نے جدھر دیکھا تمہارے چہرے کے سوا دوسرا چہرہ نظر نہیں آیا، جدھر سے گذرا تمہاری گلی کے سوا دوسری گلی نہ پائی۔

    گرمشک و گلاب و عطر ارصندل و گل باشد

    از ہر چہ شمیدم من جز بوئے تو بوئے تو

    خواہ مشک و گلاب ہو عطر اور صندل و گل ہو، جو کچھ بھی سونگھا، تمہاری بو کے سوا کوئی بو نہ پائی۔

    در ہر دل و ہر دیدہ در ہرسرو ہر سینہ

    موجود ترا دیدم جز ہوئے تو ہوئے تو

    ہر دل اور ہر آنکھ میں ہر سینہ اور ہر سر میں تجھی کو موجود پایا، تیری ذات کے سوا کوئی دوسری ذات نہ پائی۔

    ہر خوئے خودش بر کن وزخوئے خودش پر کن

    اے فردؔ غلام تو جز خوئے تو خوئے تو

    اس کی ہر عادت و خصلت کو اس کے اندر سے نکال دے اور اپنی صفات سے اس کو بھر دے، اے کہ فرد تمہارا غلام ہے، تمہاری سیرت و خصلت کے سوا کوئی سیرت و خصلت نہیں (یہ غزل نعتیہ بھی ہو سکتی ہے اور حمد میں بھی شامل کی جا سکتی ہے، مقطع کا مفہوم یہ ہے کہ فرد کے اندر سے اس کی تمام عادات و خصائل کو نکال کر اپنی عادات وخ صائل کو فرد کے باطن میں منتقل کر دو، کیونکہ اس محبوب کی سیرت و عادت ہی قابل قبول ہے اس کے سوا کچھ نہیں)۔

    مأخذ :
    • کتاب : نغمات الانس فی مجالس القدس (Pg. 287)
    • Author :شاہ ہلال احمد قادری
    • مطبع : دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ (2016)
    • اشاعت : First

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے