Sufinama

ہر نقش را کہ دیدی جنس اش ز لا مکانست

رومی

ہر نقش را کہ دیدی جنس اش ز لا مکانست

رومی

MORE BYرومی

    ہر نقش را کہ دیدی جنس اش ز لا مکانست

    گر نقش رفت غم نیست اصلش چو جاویدانست

    جو کچھ تو دیکھتا ہے اس کی حقیقت کسی خاص جگہ پر نہیں ہے۔ صورت کے مٹ جانےکا کیا غم ہے جب اس کا جوہر عارضی ہے۔

    ہر صورتے کہ دیدی ہر نکتہ کے شنیدی

    بد دل مشو کے رفتاں زیرانہ آں چنان است

    اس لیے جو صورت آنکھوں کے سامنے ہےاس کے بارے میں جوراز نہیں کھلتے اس کے ختم ہو جانے یا مٹ جانے پر افسوس نہ کر۔

    چوں اصل چشمہ باقیست فرعش ہمیشہ ساقیست

    چوں ہر دو بے زوال اند از چہ ترا فغانست

    اصل میں یہ ختم نہیں ہوتا۔ جب تک چشمہ جاری رہتا ہے، نہریں اس کو سیراب کرتی رہتی ہیں۔ اور جب چشمہ اور اس کی نہریں لافانی ہیں تو پھر تمہیں شور مچانے کی کیا ضرورت ہے؟

    جاں را چو چشمۂ داں ویں صنع ہا چو جو ہا

    تا چشمہ ہست باقی جو ہا ازو روانست

    رب کریم ایک چشمے کی مانند ہے اور اس کی تخلیق کردہ صورتیں نہروں کی طرح ہیں۔ جب تک چشمہ رہےگا، اس وقت تک اس میں سے نہریں جاری رہیں گی۔

    غم را بروں کن از آب جو ہمیں خر

    از فوت آب مندیش کیں آب بیکرانست

    پریشان نہ ہوں اور ان نہروں سے فیضآب ہوتے رہ۔ یہ مت سوچو کہ پانی نہیں ہوگا۔ چشموں میں پانی بہت ہے۔

    زاں دم کے آمدستی اندر جہان ہستی

    پیشت کے تا برستی بہ نہادہ نردبانست

    جب سے آپ اس دنیا میں آئے ہیں، تیری کی ابتدا سے ہی ترقی کی سیڑھی تیرے سامنے رکھی گئی ہے۔

    اول جماد بودی آخر نبات گشتی

    آں گہ شدی تو حیواں ایں ور تو چوں نہانست

    تم پہلے پتھر تھے، پھر پودا اور پھر جانور میں تبدیل ہو گئے۔ لیکن یہ امتیاز تم پر کیوں ظاہر نہیں ہوا؟

    گشتی ازاں پل انساں با علم و عقل و ایماں

    بنگر چہ گل شد آں تن کو جزو خاک دانست

    جانور سے تم کو ایک سچے اور باصلاحیت انسان کی شکل ملی۔ دیکھو مٹی کا یک سانچہ کتنی خوبصورت بن گئی ہے۔

    ز انساں چو سیر کردی بے شک فرشتہ گردی

    بے ایں زمیں ازاں پس جایت بر آسمانست

    اگر تم انسان کی منزل سے آگے بڑھو گے تو بلاشبہ تم دیوتا بن جاؤ گے اور تمہارا ٹھکانہ آسمان پر ہو گا۔ زمین پھٹ جائے گی۔

    باز از فرشتگی ہم بہ گزر برو دراں یم

    تا قطرۂ تو بحرے گردد کہ صد عمانست

    پھر اس حالت کو بھی چھوڑ کر سمندر میں جاملو جو بہت وسیع ہے، تاکہ تم ایک قطرے کے بجائے ایک دریا بن جاؤ جو سو دریا سے زیادہ ہے۔

    بہ گزر ازیں بلد تو می گو ز جان احد تو

    گر پیر گشت جسمت چہ غم چوں جاں جوانست

    اب اس پیدائیش کے جال میں مت پڑ، اور جان سےجاکر مل اور اسے بتا کہ تمہارا جسم بوڑھا ہو گیا ہے، لیکن اس کی فکر نہ کر۔ تمہاری روح ابھی بھی جوان ہے۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے