نوازشِ دِل ماکن کہ دل نواز توئی
نوازشِ دِل ماکن کہ دل نواز توئی
بساز کارِ غریباں کہ کارساز توئی
میدانِ عرفات کے جلال اور رب الرحیم کی بخشس کی امید کا تاثر جس سے ایسا گریہ طاری ہوتا ہے کہ رکنے میں نہیں آتا۔
يا رب! چہ چشمہ ایست محبت کہ من ازاں
یک قطره آب خوردم و دریا گریستم
اے رب! محنت کیسا چشمہ ہے کہ میں نے اس میں سے ایک قطرہ پانی پیا اور پھر رو رو کر دریا بہا دیا۔
در رہِ منزل لیلیٰ کہ خطرہاست بجاں
شرطِ اول قدم آنست کہ مجنوں ہاشی
لیلیٰ تک پہنچنے کے راستے میں جان کو بے شمار خطرات لاحق ہوتے ہیں، اس راہ پر پہلا قدم اٹھانے کی شرط یہ ہے کہ تو مجنوں بن جائے۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.