Font by Mehr Nastaliq Web

نوازشِ دِل ماکن کہ دل نواز توئی

رونق بدایونی

نوازشِ دِل ماکن کہ دل نواز توئی

رونق بدایونی

MORE BYرونق بدایونی

    نوازشِ دِل ماکن کہ دل نواز توئی

    بساز کارِ غریباں کہ کارساز توئی

    میدانِ عرفات کے جلال اور رب الرحیم کی بخشس کی امید کا تاثر جس سے ایسا گریہ طاری ہوتا ہے کہ رکنے میں نہیں آتا۔

    يا رب! چہ چشمہ ایست محبت کہ من ازاں

    یک قطره آب خوردم و دریا گریستم

    اے رب! محنت کیسا چشمہ ہے کہ میں نے اس میں سے ایک قطرہ پانی پیا اور پھر رو رو کر دریا بہا دیا۔

    در رہِ منزل لیلیٰ کہ خطرہاست بجاں

    شرطِ اول قدم آنست کہ مجنوں ہاشی

    لیلیٰ تک پہنچنے کے راستے میں جان کو بے شمار خطرات لاحق ہوتے ہیں، اس راہ پر پہلا قدم اٹھانے کی شرط یہ ہے کہ تو مجنوں بن جائے۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے