نہایت نیست راہِ عشق را یار
نہایت نیست راہِ عشق را یار
تو یک روباش دست ازکار بردار
ترجمہ : اے طالب! عشق کے راستہ کی کوئی انتہا نہیں ہے، تو سچا دوست بن جا اور اپنے نفسانی کام سے ہاتھ اٹھا لے۔
فنا کن خویش را در راہِ جاناں
چہ کار آید ترا ایں درم و دنیار
اپنے آپ کو محبوب کی پیروی کے راستہ میں فنا کر دے یہ درم و دینار تیرے کیا کام آئیں گے۔
اگر یک دل نباشی در طریقش
نہ بینی روی او پرگز دریں دار
اس کی راہ طریقت میں تو اگر خلوص دل سے متفق نہ رہے گا تو اس کائنات میں ہرگز اس کا رخ انور نہ دیکھے گا۔
و فی الکونین کی بیند جمالش
فدا کن جاں بگرد زلف آں یار
اور کائنات میں اس کا جمال کس طرح دیکھا جائے اس محبوب کی زلف کی گرد اپنی جان قربان کر دے۔
دریغ از وی چہ داری پارہ زر را
تو خاصہ جانِ خود بایار بسپار
تو روپے پیسے کے سکوں کے لیے کیا افسوس کرتا ہے تجھے تو چاہیے کہ خاص طور پر اپنی جان محبوب حقیقی کو سپرد کر دے۔
- کتاب : Divan-e-Bahu (Pg. 104)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.