حق تعالیٰ بالیقیں حاضر نگر
حق تعالیٰ بالیقیں حاضر نگر
چند ریزی از درونِ خوں جگر
ترجمہ : تو یقینِ کامل کے ساتھ حق تعالیٰ کو موجود دیکھ تو اپنے اندر سے کس قدر جگر کا خون بہاتا رہے گا۔
قربِ حق نزدیک من حبلِ الورید
تو جمالش را نہ بینی بی بصر
حق تعالیٰ کا قرب تو شہ رگ سے بھی زیادہ نزدیک ہے تو اس کا جمال چشم باطن کے نابینا ہونے کا باعث نہیں دیکھتا۔
چوں حجاب ما و من آمد میاں
زاں سبب بینی بیاباں بیشتر
جب ما و من کی انانیت کا پردہ درمیان میں آ گیا تو اسی وجہ سے تجھے جدائی کے فاصلہ کا بیابان زیادہ نظر آرہا ہے۔
وادی ای طے کن زخود نزدیک آ
منزلِ جاناں بہ جانِ خود نگر
اس خود بینی کی وادی کو طے کرکے اپنی ذات کے قریب آ جا اور محبوب کا مقام اپنی روح میں دیکھ لے۔
یار دلبر خود زخود نزدیک داں
ہاں مشو از قربِ جاناں بے خبر
اے سالک اپنے محبوب کو اپنے سے قریب جان لے خبردار ہو جا محبوب کے قرب سے بے خبر نہ رہنا۔
- کتاب : Divan-e-Bahu (Pg. 78)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.