از من ہزار من شد ہی ہی ہزار ہی ہی
از من ہزار من شد ہی ہی ہزار ہی ہی
ہی ہی ہزار ازمن ازمن ہزار ہی ہی
ترجمہ : ایک ’’میں‘‘ سے ہزار ’’میں‘‘ پیدا ہوگئے افسوس ہزار بار افسوس، ہزار افسوس اس ’’میں‘‘ پر اس ’’میں‘‘ پر ہزار افسوس۔
ہی ہی کہ من ندانم دائم منی برانم
زیں کی کنی خلاصم ہی ہی ہزار ہی ہی
افسوس میں نہیں جانتا کہ ہمیشہ خود بینی ہانک رہا ہوں اس سے مجھے کب خلاصی دیں گے اس پر ہزار بار افسوس۔
ہی ہی کجا شریعت من غافل از طریقت
دانم نہ آں حقیقت ہی ہی ہزار ہی ہی
افسوس شریعت کہاں میں تو طریقت سے غافل ہوں، اس مقصود حقیقت کو نہیں سمجھتا ہوں اس پر ہزار بار افسوس۔
دیدیم آنچہ دیدیم خوردیم آنچہ خوردیم
بر سینہ داغ بردیم ہی ہی ہزار ہی ہی
اس جہان میں ہم نے دیکھا تو کیا دیکھا کھایا تو کیا کھایا البتہ سینہ پر ہم نے داغ لے لیے اس پر ہزار بار افسوس۔
یاری کجاست یاری غمخوار ہا نگاری
یاری بگو تو یاری ہی ہی ہزار ہی ہی
دوست کہاں ہے وہ دوست ہمدرد محبوب اب تو دوست دوست کہتا رہ اس پر ہزار بار افسوس۔
- کتاب : Divan-e-Bahu (Pg. 92)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.