Font by Mehr Nastaliq Web

از من ہزار من شد ہی ہی ہزار ہی ہی

سلطان باہو

از من ہزار من شد ہی ہی ہزار ہی ہی

سلطان باہو

MORE BYسلطان باہو

    از من ہزار من شد ہی ہی ہزار ہی ہی

    ہی ہی ہزار ازمن ازمن ہزار ہی ہی

    ترجمہ : ایک ’’میں‘‘ سے ہزار ’’میں‘‘ پیدا ہوگئے افسوس ہزار بار افسوس، ہزار افسوس اس ’’میں‘‘ پر اس ’’میں‘‘ پر ہزار افسوس۔

    ہی ہی کہ من ندانم دائم منی برانم

    زیں کی کنی خلاصم ہی ہی ہزار ہی ہی

    افسوس میں نہیں جانتا کہ ہمیشہ خود بینی ہانک رہا ہوں اس سے مجھے کب خلاصی دیں گے اس پر ہزار بار افسوس۔

    ہی ہی کجا شریعت من غافل از طریقت

    دانم نہ آں حقیقت ہی ہی ہزار ہی ہی

    افسوس شریعت کہاں میں تو طریقت سے غافل ہوں، اس مقصود حقیقت کو نہیں سمجھتا ہوں اس پر ہزار بار افسوس۔

    دیدیم آنچہ دیدیم خوردیم آنچہ خوردیم

    بر سینہ داغ بردیم ہی ہی ہزار ہی ہی

    اس جہان میں ہم نے دیکھا تو کیا دیکھا کھایا تو کیا کھایا البتہ سینہ پر ہم نے داغ لے لیے اس پر ہزار بار افسوس۔

    یاری کجاست یاری غمخوار ہا نگاری

    یاری بگو تو یاری ہی ہی ہزار ہی ہی

    دوست کہاں ہے وہ دوست ہمدرد محبوب اب تو دوست دوست کہتا رہ اس پر ہزار بار افسوس۔

    مأخذ :
    • کتاب : Divan-e-Bahu (Pg. 92)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے