پھول چڑھائیں
چلو چلو ری سکھی جائیں
پھول چڑھائیں
ملک ولایت کے ماہ پارے
خواجا معین الدین پیارے
جملہ مریدوں کے ہیں سہارے
آقا ہمارے داتا ہمارے
جھولیاں بھر بھر لائیں
پھول چڑھائیں
داغ جگر میں پاؤں میں چھالے
بادل غم کے چھائے ہیں کالے
کب تک کریں فریاد و نالے
پیارے ولی ہیں اللہ والے
چلو قصۂ غم ان کو سنائیں
پھول چڑھائیں
در سے کسی کو خالی نہ پھیرا
میرا بھی دامن بھر دیجئے آقا
آپ سخی ہیں آپ ہیں داتا
جبکہ ہو جاری فیض کا دریا
نہ کیوں پھر فیض اٹھائیں
پھول چڑھائیں
ان کے مبارک روضہ پہ جا کر
روضے کے ارد گرد چکر لگا کر
پھر غم کا ان کو قصا سنا کر
چوکھٹ پر ان کی سر کو جھکا کر
ان پر فدا ہو جائیں
پھول چڑھائیں
ان کے در پر نور سے خالی
جاتا نہیں ہے کوئی سوالی
ان کا عجب دربار ہے عالی
تھام کے ان کے روضے کی جالی
دل کا حال سنائیں
پھول چڑھائیں
بھولیں عنادل ساری بہاریں
ان کے گل رخسار جو دیکھیں
اللہ اکبر باغ جہاں میں
پھول سے منہ کا ذکر جو سن لیں
پھول بھی شرما جائیں
پھول چڑھائیں
تمرا ندیمیؔ خواجا پیارے
آن پڑا ہے تمرے دوارے
ہشت نگر کے راج دلارے
اب تو جگا دو بھاگ ہمارے
دل کی مرادیں پاؤں
پھول چڑھائیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.