Font by Mehr Nastaliq Web

پھول چڑھائیں

شیخ محمد ندیمی

پھول چڑھائیں

شیخ محمد ندیمی

MORE BYشیخ محمد ندیمی

    چلو چلو ری سکھی جائیں

    پھول چڑھائیں

    ملک ولایت کے ماہ پارے

    خواجا معین الدین پیارے

    جملہ مریدوں کے ہیں سہارے

    آقا ہمارے داتا ہمارے

    جھولیاں بھر بھر لائیں

    پھول چڑھائیں

    داغ جگر میں پاؤں میں چھالے

    بادل غم کے چھائے ہیں کالے

    کب تک کریں فریاد و نالے

    پیارے ولی ہیں اللہ والے

    چلو قصۂ غم ان کو سنائیں

    پھول چڑھائیں

    در سے کسی کو خالی نہ پھیرا

    میرا بھی دامن بھر دیجئے آقا

    آپ سخی ہیں آپ ہیں داتا

    جبکہ ہو جاری فیض کا دریا

    نہ کیوں پھر فیض اٹھائیں

    پھول چڑھائیں

    ان کے مبارک روضہ پہ جا کر

    روضے کے ارد گرد چکر لگا کر

    پھر غم کا ان کو قصا سنا کر

    چوکھٹ پر ان کی سر کو جھکا کر

    ان پر فدا ہو جائیں

    پھول چڑھائیں

    ان کے در پر نور سے خالی

    جاتا نہیں ہے کوئی سوالی

    ان کا عجب دربار ہے عالی

    تھام کے ان کے روضے کی جالی

    دل کا حال سنائیں

    پھول چڑھائیں

    بھولیں عنادل ساری بہاریں

    ان کے گل رخسار جو دیکھیں

    اللہ اکبر باغ جہاں میں

    پھول سے منہ کا ذکر جو سن لیں

    پھول بھی شرما جائیں

    پھول چڑھائیں

    تمرا ندیمیؔ خواجا پیارے

    آن پڑا ہے تمرے دوارے

    ہشت نگر کے راج دلارے

    اب تو جگا دو بھاگ ہمارے

    دل کی مرادیں پاؤں

    پھول چڑھائیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے