Font by Mehr Nastaliq Web

وہ درخت جو خود رو ہوتا ہے اس میں اول تو پھل ہی نہیں آتے اور اگر آتے بھی ہیں تو بے مزہ ہوتے ہیں، خدا کی یہ سنتِ جاریہ ہے کہ کوئی نہ کوئی سبب موجود ہو، جس طرح ظاہری توالد و تناسل بغیر ماں باپ کے حاصل نہیں ہوسکتا اسی طرح معنوی توالد بھی بغیر مرشد کے مشکل ہے۔

ابو علی دقاق

وہ درخت جو خود رو ہوتا ہے اس میں اول تو پھل ہی نہیں آتے اور اگر آتے بھی ہیں تو بے مزہ ہوتے ہیں، خدا کی یہ سنتِ جاریہ ہے کہ کوئی نہ کوئی سبب موجود ہو، جس طرح ظاہری توالد و تناسل بغیر ماں باپ کے حاصل نہیں ہوسکتا اسی طرح معنوی توالد بھی بغیر مرشد کے مشکل ہے۔

ابو علی دقاق

MORE BYابو علی دقاق

    وہ درخت جو خود رو ہوتا ہے اس میں اول تو پھل ہی نہیں آتے اور اگر آتے بھی ہیں تو بے مزہ ہوتے ہیں، خدا کی یہ سنتِ جاریہ ہے کہ کوئی نہ کوئی سبب موجود ہو، جس طرح ظاہری توالد و تناسل بغیر ماں باپ کے حاصل نہیں ہوسکتا اسی طرح معنوی توالد بھی بغیر مرشد کے مشکل ہے۔

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے