Font by Mehr Nastaliq Web

انسان کے لیے لازم ہے کہ آنکھ نا مناسب جگہ نہ ڈالے اور جو نہ کہنے کی بات ہو نہ کہے اور جو سوچنے کی بات نہ ہو نہ سوچے، شہوت کی آگ کو بھوک کے پانی سے بجھائے اور دل کو دنیا و حوادثات کی مشغولیت سے محفوظ رکھے اور محض خواہشاتِ نفسانی کو الہام اور علم نہ کہے۔

داتا صاحب

انسان کے لیے لازم ہے کہ آنکھ نا مناسب جگہ نہ ڈالے اور جو نہ کہنے کی بات ہو نہ کہے اور جو سوچنے کی بات نہ ہو نہ سوچے، شہوت کی آگ کو بھوک کے پانی سے بجھائے اور دل کو دنیا و حوادثات کی مشغولیت سے محفوظ رکھے اور محض خواہشاتِ نفسانی کو الہام اور علم نہ کہے۔

داتا صاحب

MORE BYداتا صاحب

    انسان کے لیے لازم ہے کہ آنکھ نا مناسب جگہ نہ ڈالے اور جو نہ کہنے کی بات ہو نہ کہے اور جو سوچنے کی بات نہ ہو نہ سوچے، شہوت کی آگ کو بھوک کے پانی سے بجھائے اور دل کو دنیا و حوادثات کی مشغولیت سے محفوظ رکھے اور محض خواہشاتِ نفسانی کو الہام اور علم نہ کہے۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے