داتا صاحب کے صوفی اقوال
لفظ ’’صوفی‘‘ کی کوئی ایسی جڑ یا ماخذ نہیں جو عام لغوی اصولوں کے دائرے میں آتی ہو، کیوں کہ صوفیانہ طریقہ اتنا بلند پایہ اور ماورائی ہے کہ اسے کسی عام جنس یا زمرے سے ماخوذ قرار دینا ممکن نہیں، یہ ایک ایسا راز ہے جو زبان کے اسباق سے بالاتر ہے۔
وہی لوگ نکاح کے لائق ہیں جو انسانوں کے ساتھ میل جول کو پسند کرتے ہیں اور جو بندگی کی تنہائی کو اختیار کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے تجرد ایک زیور ہے۔
درویش کی چوکھٹ ہر معنی میں استعارہ ہے فقر کا اور اس کے تمام ذیلی پہلوؤں میں ایک ماورائی حقیقت پوشیدہ ہے۔
یہ دنیا ہے غم کا مسکن، دکھ کا آشیانہ، درد کی پناہ گاہ، جدائی کا گھر اور آزمائشوں کی جھولی۔
پہلے صوفیانہ عمل پہچانا جاتا تھا اور دکھاوا ناواقف تھا، آج دکھاوا جانا پہچانا ہے اور صوفیانہ عمل غائب ہو چکا ہے۔
آنکھ کی ہوس ہے نظر، کان کی چاہ ہے سماعت، ناک کی تمنا ہے خوشبو، زبان کی آرزو ہے گفتگو، ذائقے کی چاہ ہے لذت، جسم کی تمنا ہے لمس اور دل کی طلب ہے سوچ۔
وہ شخص کبھی بھی تحقیق کے درجہ تک نہیں پہنچ سکتا جو صرف ظاہری چیزوں پر کفایت کرے۔
علم بہت ہیں اور انسانی عمر تھوڑی ہے، اس لیے تمام علوم کا سیکھنا انسان پر فرض نہیں البتہ اس حد تک علم ضروری ہے جس سے عمل درست ہو جائے۔
آنکھ کی خواہش دیکھنا ہے، کان کی خواہش سننا، ناک کی خواہش سونگھنا، ذائقے کی خواہش چکھنا، جسم کی خواہش چھونا ہے اور عقل کی خواہش سوچنا ہے۔
عمل - بغیر اپنے علم کے عمل نہیں ہوتا، اس لیے عمل اس وقت عمل ہوتا ہے جب کہ علم کے ساتھ شامل ہو۔
غیض و غضب کی حالت میں جس شخص نے حق و صداقت کو ہاتھ سے چھوڑ دیا اور انصاف کا خون کر دیا، وہ مؤمن نہیں بلکہ جھوٹ کا سہارا لیے ہوئے ہے۔
جو لوگ اطاعتِ خداوندی اور حسنِ عمل پر ناز کرنے لگتے ہیں تو اپنی ہلاکت کا سامان خود کرتے ہیں۔
انسان جو بھی اچھا کام کرے اس کا بدلہ خدا سے سوائے عذابِ نفس کی رہائی کے کچھ نہیں مانگنا چاہیے اور ہر کام حالِ رضائے الٰہی پر مبنی ہونا چاہیے۔
مبتدیوں کو چاہیے کہ راگ اور سماع سے پرہیز کریں کیوں کہ یہ راستہ کے لیے سخت خطرناک ہے۔
راستے میں دوسروں کو اپنا انتظار نہ کرائے اور نہ ہی بات کرنے کے لیے کسی کو روکے۔
غافل امراؤ، کاہل فقرا اور جاہل درویشوں کی صحبت سے پرہیز کرنا عبادت میں داخل ہے۔
صوفی لفظ کو لغت میں بتائے گئے اس کے معنی سے مکمل طور پر نہیں سمجھا جا سکتا، تصوف ایک ایسی عظیم شئے ہے جسے کسی خاص خانے میں قید نہیں کیا جا سکتا۔
درویش کے لیے لازم ہے کہ وہ بادشاہوں کی ملاقات کو سانپ اور اژدہے کی ملاقات کے برابر سمجھے۔
دولت کو عذاب جان اور اس کو اہلِ فاقہ لوگوں کو دیدے اور تصدق کر کیوں کہ آخر قبر میں کیڑے کھائیں گے اور اگر تو نے یہ بخشش میں دیدی تو وہ تیرے دوستدار رہیں گے۔
ہماری فنا و بقا اور حیات و ممات خدا کی قوت سے قائم ہے اور ہماری زندگی اس کی تخلیق ہی کے ماتحت ہے اور جو لوگ روح کو قدیم مانتے ہیں گمراہ ہیں۔
بیوی کے سب حقوق پورے کرو، اس پر شفقت کرو اور خدا کی طرف سے اس کے متعلق عائد کردہ تمام فرائض ادا کرو۔
انسان کے لیے خدمتِ خلق کے معنی یہ ہیں کہ وہ بلا تمیز خورد و کلاں سب کو اپنے سے بہتر جانے اور سب کی خدمت اپنے اوپر واجب سمجھے۔
تصوف کے کیے مقامات ہیں اول توبہ، دوم رجوع الی اللہ، سوم زہد یعنی لذتِ دنیا سے اجتناب اور چہارم توکل یعنی اللہ کا سہارا، مسلسل عبادت سے مقام کشف و مشاہدہ ملتا ہے۔
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere