Font by Mehr Nastaliq Web
Data Sahib's Photo'

داتا صاحب

1009 - 1072 | لاہور, پاکستان

پاکستان کے مشہور صوفی اور کشف المحجوب کے مصنف

پاکستان کے مشہور صوفی اور کشف المحجوب کے مصنف

داتا صاحب کے صوفی اقوال

27
Favorite

باعتبار

جب تک خدا بندے کی طرف اپنا کرم نہ کرے، بندے کی محنت بے کار ہے۔

لفظ ’’صوفی‘‘ کی کوئی ایسی جڑ یا ماخذ نہیں جو عام لغوی اصولوں کے دائرے میں آتی ہو، کیوں کہ صوفیانہ طریقہ اتنا بلند پایہ اور ماورائی ہے کہ اسے کسی عام جنس یا زمرے سے ماخوذ قرار دینا ممکن نہیں، یہ ایک ایسا راز ہے جو زبان کے اسباق سے بالاتر ہے۔

وہی لوگ نکاح کے لائق ہیں جو انسانوں کے ساتھ میل جول کو پسند کرتے ہیں اور جو بندگی کی تنہائی کو اختیار کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے تجرد ایک زیور ہے۔

نیکی کا کام کرنے میں صرف خدا ہی مددگار ہے۔

ولی کو صرف ولی ہی پہچانتا ہے۔

درویش کی چوکھٹ ہر معنی میں استعارہ ہے فقر کا اور اس کے تمام ذیلی پہلوؤں میں ایک ماورائی حقیقت پوشیدہ ہے۔

یہ دنیا ہے غم کا مسکن، دکھ کا آشیانہ، درد کی پناہ گاہ، جدائی کا گھر اور آزمائشوں کی جھولی۔

پہلے صوفیانہ عمل پہچانا جاتا تھا اور دکھاوا ناواقف تھا، آج دکھاوا جانا پہچانا ہے اور صوفیانہ عمل غائب ہو چکا ہے۔

معجزات میں جلوہ ہے، کرامات میں راز۔

خدا نے اپنے صوفیہ کو نظامِ کائنات کا نگران و نگہبان بنایا ہے۔

آنکھ کی ہوس ہے نظر، کان کی چاہ ہے سماعت، ناک کی تمنا ہے خوشبو، زبان کی آرزو ہے گفتگو، ذائقے کی چاہ ہے لذت، جسم کی تمنا ہے لمس اور دل کی طلب ہے سوچ۔

خدا کی بارگاہ کا ادب ہر حال میں ملحوظ رکھنا چاہیے۔

وہ شخص کبھی بھی تحقیق کے درجہ تک نہیں پہنچ سکتا جو صرف ظاہری چیزوں پر کفایت کرے۔

اس ذاتِ حقیقی کے روبرو ہمیشہ عاجزی سے دعا مانگنا چاہیے۔

علم بہت ہیں اور انسانی عمر تھوڑی ہے، اس لیے تمام علوم کا سیکھنا انسان پر فرض نہیں البتہ اس حد تک علم ضروری ہے جس سے عمل درست ہو جائے۔

حکم کی عظمت اسی وقت زیادہ ہوتی ہے جب انسان خدا کو پہچان لے۔

آنکھ کی خواہش دیکھنا ہے، کان کی خواہش سننا، ناک کی خواہش سونگھنا، ذائقے کی خواہش چکھنا، جسم کی خواہش چھونا ہے اور عقل کی خواہش سوچنا ہے۔

دنیا کے سب کاموں کی زیب و زینت ادب سے ہے۔

فقیری مشکل ہے۔

بلا پوچھے کوئی بات کرنا اور بے مقصد بولتے رہنا جاہلیت کی نشانی ہے۔

عمل - بغیر اپنے علم کے عمل نہیں ہوتا، اس لیے عمل اس وقت عمل ہوتا ہے جب کہ علم کے ساتھ شامل ہو۔

جو انسان اپنے آپ کو نہیں پہچانتا وہ خدا کو بھی نہیں پہچان سکتا۔

خرقہ پوشی صرف تارک الدنیا اور مشتاقانِ جمالِ الٰہی ہی کو موزوں و مناسب ہے۔

پروانہ ہمیشہ شمع کی طرف ہی جاتا ہے۔

انسان ہمیشہ کعبہ دیکھتے ہیں اور خدا ہمیشہ دل دیکھتا ہے۔

جس کو خدا سے محبت ہو، لوگوں سے میل جول اس کو نقصان نہیں پہنچاتا۔

غیض و غضب کی حالت میں جس شخص نے حق و صداقت کو ہاتھ سے چھوڑ دیا اور انصاف کا خون کر دیا، وہ مؤمن نہیں بلکہ جھوٹ کا سہارا لیے ہوئے ہے۔

درویش کی ہلاکت دل کی خرابی میں ہے۔

جو لوگ اطاعتِ خداوندی اور حسنِ عمل پر ناز کرنے لگتے ہیں تو اپنی ہلاکت کا سامان خود کرتے ہیں۔

کُل کا خیال دل میں نہیں لانا چاہیے تاکہ ہمیشہ کی ہلاکت سے محفوظ رہو۔

سوال ان لوگوں سے کرنا چاہیے جن کا مال حلال ہونے کا یقین ہو۔

انسان جو بھی اچھا کام کرے اس کا بدلہ خدا سے سوائے عذابِ نفس کی رہائی کے کچھ نہیں مانگنا چاہیے اور ہر کام حالِ رضائے الٰہی پر مبنی ہونا چاہیے۔

مبتدیوں کو چاہیے کہ راگ اور سماع سے پرہیز کریں کیوں کہ یہ راستہ کے لیے سخت خطرناک ہے۔

جو خود کو خواہشات سے بچا لے، یقیناً جنت اس کا ٹھکانا ہے۔

راستے میں دوسروں کو اپنا انتظار نہ کرائے اور نہ ہی بات کرنے کے لیے کسی کو روکے۔

بھوک صدیقوں کا طعام ہے، مریدوں کا راستہ اور شیطان کی قید کرنے کا ذریعہ۔

محبت ایک خدا کا تحفہ ہے، یہ کوئی ایسی چیز نہیں جسے حاصل کیا جا سکے۔

غافل امراؤ، کاہل فقرا اور جاہل درویشوں کی صحبت سے پرہیز کرنا عبادت میں داخل ہے۔

کینہ، حسد اور خیانت سے جہاں تک ہو سکے پرہیز کرے۔

صوفی لفظ کو لغت میں بتائے گئے اس کے معنی سے مکمل طور پر نہیں سمجھا جا سکتا، تصوف ایک ایسی عظیم شئے ہے جسے کسی خاص خانے میں قید نہیں کیا جا سکتا۔

تصوف کے راستے پر جس نے یہ کہا میں پہنچ گیا وہ بھٹک گیا۔

درویش کے لیے لازم ہے کہ وہ بادشاہوں کی ملاقات کو سانپ اور اژدہے کی ملاقات کے برابر سمجھے۔

نفس کی مثال شیطان کی سی ہے اور اس کی مخالفت عبادت کا کمال ہے۔

دولت کو عذاب جان اور اس کو اہلِ فاقہ لوگوں کو دیدے اور تصدق کر کیوں کہ آخر قبر میں کیڑے کھائیں گے اور اگر تو نے یہ بخشش میں دیدی تو وہ تیرے دوستدار رہیں گے۔

ہماری فنا و بقا اور حیات و ممات خدا کی قوت سے قائم ہے اور ہماری زندگی اس کی تخلیق ہی کے ماتحت ہے اور جو لوگ روح کو قدیم مانتے ہیں گمراہ ہیں۔

بیوی کے سب حقوق پورے کرو، اس پر شفقت کرو اور خدا کی طرف سے اس کے متعلق عائد کردہ تمام فرائض ادا کرو۔

طالبِ حق ہو۔

انسان کے لیے خدمتِ خلق کے معنی یہ ہیں کہ وہ بلا تمیز خورد و کلاں سب کو اپنے سے بہتر جانے اور سب کی خدمت اپنے اوپر واجب سمجھے۔

تصوف کے کیے مقامات ہیں اول توبہ، دوم رجوع الی اللہ، سوم زہد یعنی لذتِ دنیا سے اجتناب اور چہارم توکل یعنی اللہ کا سہارا، مسلسل عبادت سے مقام کشف و مشاہدہ ملتا ہے۔

اؤلیا اللہ خدا کے ملک کے منتظم اور ولی ہیں، خدا نے جہان کا انتظام ان کے متعلق کیا ہے، آسمان سے بارش ان کے قدموں سے ہوتی ہے، زمین سے پیداوار ان کے احوال کی صفائی سے ہوتی ہے۔

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

بولیے