Font by Mehr Nastaliq Web

اگر تمہارے اندر عشق ظاہر ہوتا ہے تو اس کا سرچشمہ حسن میں ہے، تم کچھ نہیں مگر ایک آئینہ ہو جس میں حسن عکس انداز ہوتا ہے، چوں کہ حسن اور اس کا عکس دونوں اسی ایک سرچشمے سے ہیں، اس لیے وہ خزانہ بھی ہے اور گنجینہ بھی۔

جامی

اگر تمہارے اندر عشق ظاہر ہوتا ہے تو اس کا سرچشمہ حسن میں ہے، تم کچھ نہیں مگر ایک آئینہ ہو جس میں حسن عکس انداز ہوتا ہے، چوں کہ حسن اور اس کا عکس دونوں اسی ایک سرچشمے سے ہیں، اس لیے وہ خزانہ بھی ہے اور گنجینہ بھی۔

جامی

MORE BYجامی

    اگر تمہارے اندر عشق ظاہر ہوتا ہے تو اس کا سرچشمہ حسن میں ہے، تم کچھ نہیں مگر ایک آئینہ ہو جس میں حسن عکس انداز ہوتا ہے، چوں کہ حسن اور اس کا عکس دونوں اسی ایک سرچشمے سے ہیں، اس لیے وہ خزانہ بھی ہے اور گنجینہ بھی۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے