Font by Mehr Nastaliq Web

جب مشائخ مخلوق خدا کو گمراہی پر ڈٹا ہوا دیکھتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی جانتے ہیں کہ گمراہی عذاب کا باعث بن جائے گی تو اپنی انتہائی رحم دلی کی بنا پر عذاب کو ان سے دفع کرنے کی فکر کرتے ہیں، پس شفقت کا مقتضا یہ ہوتا ہے کہ ترویج و اشاعت کو لازم پکڑ کر مخلوقِ خدا کو وعظ و نصیحت کے ذریعہ حفظ آداب و اقامت شرع کا آمر بن کر مثلاً فقہ و حدیث کے تعلیم و تعلم کا امر کریں، شرع پر پابندی کے ساتھ عمل کرنے کا مشورہ دیں لیکن یہ بات بھی ہے کہ مشائخ کاکام یہ نہیں ہے کہ وہ واصل بھی کر دیں یہ امر شفقت کے لیے لازم اور ضروری نہیں ہے بلکہ امرِ زائد ہے، اس طریقہ نقشبندیہ کا حاصل کار یہ ہے کہ انجذاب ایمانی کی تربیت کریں، تمام انبیا و رسل کی دعوت کا یہی طریقہ تھا۔

خواجہ باقی باللہ

جب مشائخ مخلوق خدا کو گمراہی پر ڈٹا ہوا دیکھتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی جانتے ہیں کہ گمراہی عذاب کا باعث بن جائے گی تو اپنی انتہائی رحم دلی کی بنا پر عذاب کو ان سے دفع کرنے کی فکر کرتے ہیں، پس شفقت کا مقتضا یہ ہوتا ہے کہ ترویج و اشاعت کو لازم پکڑ کر مخلوقِ خدا کو وعظ و نصیحت کے ذریعہ حفظ آداب و اقامت شرع کا آمر بن کر مثلاً فقہ و حدیث کے تعلیم و تعلم کا امر کریں، شرع پر پابندی کے ساتھ عمل کرنے کا مشورہ دیں لیکن یہ بات بھی ہے کہ مشائخ کاکام یہ نہیں ہے کہ وہ واصل بھی کر دیں یہ امر شفقت کے لیے لازم اور ضروری نہیں ہے بلکہ امرِ زائد ہے، اس طریقہ نقشبندیہ کا حاصل کار یہ ہے کہ انجذاب ایمانی کی تربیت کریں، تمام انبیا و رسل کی دعوت کا یہی طریقہ تھا۔

خواجہ باقی باللہ

MORE BYخواجہ باقی باللہ

    جب مشائخ مخلوق خدا کو گمراہی پر ڈٹا ہوا دیکھتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی جانتے ہیں کہ گمراہی عذاب کا باعث بن جائے گی تو اپنی انتہائی رحم دلی کی بنا پر عذاب کو ان سے دفع کرنے کی فکر کرتے ہیں، پس شفقت کا مقتضا یہ ہوتا ہے کہ ترویج و اشاعت کو لازم پکڑ کر مخلوقِ خدا کو وعظ و نصیحت کے ذریعہ حفظ آداب و اقامت شرع کا آمر بن کر مثلاً فقہ و حدیث کے تعلیم و تعلم کا امر کریں، شرع پر پابندی کے ساتھ عمل کرنے کا مشورہ دیں لیکن یہ بات بھی ہے کہ مشائخ کاکام یہ نہیں ہے کہ وہ واصل بھی کر دیں یہ امر شفقت کے لیے لازم اور ضروری نہیں ہے بلکہ امرِ زائد ہے، اس طریقہ نقشبندیہ کا حاصل کار یہ ہے کہ انجذاب ایمانی کی تربیت کریں، تمام انبیا و رسل کی دعوت کا یہی طریقہ تھا۔

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے