تاج الدین ! اہلِ سنبھل سے طعن و تشنیع کا خیال نہ کرو، ان بچاروں پر رحم کھاؤ کیوں کہ وہ لوگ استقامت عقل سے ہٹ گئے ہیں، الحمد اللہ کہ ملامت سننا صوفیہ کا خاص حصہ ہے، میں خود اس معاملہ میں ایک مستقل نظریہ رکھتا ہوں، وہ یہ ہے کہ جب کوئی ملامت کرتا ہے تو اپنے اندر غور کرتا ہوں اس وقت مجھے اپنی ایک نہ ایک بد صفتی ضرور نظر آتی ہے اور اس ملامت کو اپنے حق میں موعظت تصور کرتا ہوں، تم بتاؤ سہی کہ اہلِ سنبھل کی ملامت سے تمہارا کیا بگڑ جائے گا؟ کیا تمہاری عبادت قبول نہ ہوگی یا تمہاری صفائی قلب بر طرف ہو جائے گی یا درگاہِ خداوندی سے تم کو رد کر دیا جائے گا۔
تاج الدین ! اہلِ سنبھل سے طعن و تشنیع کا خیال نہ کرو، ان بچاروں پر رحم کھاؤ کیوں کہ وہ لوگ استقامت عقل سے ہٹ گئے ہیں، الحمد اللہ کہ ملامت سننا صوفیہ کا خاص حصہ ہے، میں خود اس معاملہ میں ایک مستقل نظریہ رکھتا ہوں، وہ یہ ہے کہ جب کوئی ملامت کرتا ہے تو اپنے اندر غور کرتا ہوں اس وقت مجھے اپنی ایک نہ ایک بد صفتی ضرور نظر آتی ہے اور اس ملامت کو اپنے حق میں موعظت تصور کرتا ہوں، تم بتاؤ سہی کہ اہلِ سنبھل کی ملامت سے تمہارا کیا بگڑ جائے گا؟ کیا تمہاری عبادت قبول نہ ہوگی یا تمہاری صفائی قلب بر طرف ہو جائے گی یا درگاہِ خداوندی سے تم کو رد کر دیا جائے گا۔
خواجہ باقی باللہ
MORE BYخواجہ باقی باللہ
تاج الدین ! اہلِ سنبھل سے طعن و تشنیع کا خیال نہ کرو، ان بچاروں پر رحم کھاؤ کیوں کہ وہ لوگ استقامت عقل سے ہٹ گئے ہیں، الحمد اللہ کہ ملامت سننا صوفیہ کا خاص حصہ ہے، میں خود اس معاملہ میں ایک مستقل نظریہ رکھتا ہوں، وہ یہ ہے کہ جب کوئی ملامت کرتا ہے تو اپنے اندر غور کرتا ہوں اس وقت مجھے اپنی ایک نہ ایک بد صفتی ضرور نظر آتی ہے اور اس ملامت کو اپنے حق میں موعظت تصور کرتا ہوں، تم بتاؤ سہی کہ اہلِ سنبھل کی ملامت سے تمہارا کیا بگڑ جائے گا؟ کیا تمہاری عبادت قبول نہ ہوگی یا تمہاری صفائی قلب بر طرف ہو جائے گی یا درگاہِ خداوندی سے تم کو رد کر دیا جائے گا۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.