خدا نے انسان کو مہمل پیدا نہیں کیا اور اس کو اسی طرح مرضی پر نہیں چھوڑ دیا ہے کہ جو دل میں آئے کرے اور خواہشِ نفس کے مطابق زندگی گذارے بلکہ خدا نے اوامر و نواہی کا مکلف کیا ہے اور گونا گوں احکام کا اس کو مخاطب بنایا ہے، لہٰذا اس کے بغیر چارۂ کار نہیں اگر ایسا نہ کرے گا تو مولائے حقیقی کے غضب و قہر اور غذاب و عقوبت کا مستحق ہوگا وہ لوگ بڑے خوش نصیب ہیں جو تعمیل حکم مولیٰ میں کمر ہمت باندھے ہوئے ہیں اور پوری توجہ کے ساتھ خدا کی خوشنودیاں حاصل کرنے کی فکر میں لگے ہوئے ہیں۔
خدا نے انسان کو مہمل پیدا نہیں کیا اور اس کو اسی طرح مرضی پر نہیں چھوڑ دیا ہے کہ جو دل میں آئے کرے اور خواہشِ نفس کے مطابق زندگی گذارے بلکہ خدا نے اوامر و نواہی کا مکلف کیا ہے اور گونا گوں احکام کا اس کو مخاطب بنایا ہے، لہٰذا اس کے بغیر چارۂ کار نہیں اگر ایسا نہ کرے گا تو مولائے حقیقی کے غضب و قہر اور غذاب و عقوبت کا مستحق ہوگا وہ لوگ بڑے خوش نصیب ہیں جو تعمیل حکم مولیٰ میں کمر ہمت باندھے ہوئے ہیں اور پوری توجہ کے ساتھ خدا کی خوشنودیاں حاصل کرنے کی فکر میں لگے ہوئے ہیں۔
خواجہ معصوم سرہندی
MORE BYخواجہ معصوم سرہندی
خدا نے انسان کو مہمل پیدا نہیں کیا اور اس کو اسی طرح مرضی پر نہیں چھوڑ دیا ہے کہ جو دل میں آئے کرے اور خواہشِ نفس کے مطابق زندگی گذارے بلکہ خدا نے اوامر و نواہی کا مکلف کیا ہے اور گونا گوں احکام کا اس کو مخاطب بنایا ہے، لہٰذا اس کے بغیر چارۂ کار نہیں اگر ایسا نہ کرے گا تو مولائے حقیقی کے غضب و قہر اور غذاب و عقوبت کا مستحق ہوگا وہ لوگ بڑے خوش نصیب ہیں جو تعمیل حکم مولیٰ میں کمر ہمت باندھے ہوئے ہیں اور پوری توجہ کے ساتھ خدا کی خوشنودیاں حاصل کرنے کی فکر میں لگے ہوئے ہیں۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.