Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

خواجہ معصوم سرہندی

1598 - 1668 | سرہند, بھارت

خواجہ معصوم سرہندی کے صوفی اقوال

باعتبار

یاد رکھو! ہماری عزت ایمان و معرفت کے ساتھ وابستہ ہے مال و جاہ کے ساتھ نہیں، تکمیلِ ایمان میں کوشش کرو اور مراتبِ معرفت حاصل کرنے میں جد و جہد کرو، جتنا بھی اس مقصدِ اعلیٰ میں مشقت جھیلو گے اتنا ہی زیبا و مستحسن ہے۔

دنیا زراعت کی جگہ ہے اور زراعت کے وقت عیش و آرام میں مشغول ہونا اور فانی لذتوں میں مبتلا ہونا اپنے آپ کو سرمدی آرام سے جدا رکھنا ہے، عقل دور اندیش لذت باقیہ مرضیہ کو چھوڑ کر لذاتِ فانیہ مبغوضہ پر ہرگز فریفتہ نہیں ہو سکتی۔

نیک سلوکی احسان با خلائق خندہ روئی، حسن خلق اور مخلوق کے معاملات میں نرمی و سہولت کو رضا مندیٔ حق کا ذریعہ سببِ نجات اور واسطۂ ترقیِ مدارج سمجھو۔

خدا نے انسان کو مہمل پیدا نہیں کیا اور اس کو اسی طرح مرضی پر نہیں چھوڑ دیا ہے کہ جو دل میں آئے کرے اور خواہشِ نفس کے مطابق زندگی گذارے بلکہ خدا نے اوامر و نواہی کا مکلف کیا ہے اور گونا گوں احکام کا اس کو مخاطب بنایا ہے، لہٰذا اس کے بغیر چارۂ کار نہیں اگر ایسا نہ کرے گا تو مولائے حقیقی کے غضب و قہر اور غذاب و عقوبت کا مستحق ہوگا وہ لوگ بڑے خوش نصیب ہیں جو تعمیل حکم مولیٰ میں کمر ہمت باندھے ہوئے ہیں اور پوری توجہ کے ساتھ خدا کی خوشنودیاں حاصل کرنے کی فکر میں لگے ہوئے ہیں۔

طالبانِ حق کو چاہیے کہ خدا کے ہر فعل سے شاد و خرم رہیں بلکہ لذت گیر ہوں جو کچھ محبوبِ حقیقی کی جانب سے آئے وہ محبوب ہے ایلام ہو یا انعام، نعمت ہو یا نقمت۔

اتباعِ سنت میں کوشش کرو، بدعت اور اہلِ بدعت سے دور رہو۔

مردِ حق در اصل وہ ہے جو مخلوق کے درمیان نشست و برخاست رکھے، بیوی بچے رکھتا ہو پھر ایک لحظہ خدا سے غافل نہ رہے۔

تصوف اضطراب و بے چینی کا نام ہے جب سکون آگیا تصوف نہ رہا، طالب بے اضطراب اور بے سوزش نہیں ہوتا، کوئی عارف بغیر درد و حزن کے نہیں ہے، جب حضرت رسول اللہ دوامِ فکر اور تواصلِ حزن کے ساتھ موصوف تھے تو دوسروں کا کیا ذکر ہے۔

انسان کو چاہیے کہ ورع و تقویٰ کو اپنا شعار بنائے اور منہیات میں قدم نہ رکھے کیوں کہ اس راہِ سلوک میں نواہی سے باز رہنا در حقیقت اوامر کے امتثال سے زیادہ ترقی بخش اور سود مند ہے۔

اس عالمِ فانی کی بہترین پونجی اگر کچھ ہے تو وہ درد و اندوہ ہے اور اس دستر خوان کی سب سے عمدہ نعمت سوز و گداز ہے، اس جگہ کی بے آرمی آرام ہے اور یہاں کے سوز میں ساز ہے، یہاں پر وصل طلب کرنا دریا کو کوزے میں ڈھونڈھنا اور آفتاب کو طشتِ آب میں تلاش کرنا ہے، یہ عالمِ فانی ایک مرزعہ سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتا، یہاں پر وہاں کے لیے جس قدر افزونئی زراعت کی جائے گی ثمراتِ بے اندازہ کی امید ہے، یہ دار عمل ہے۔

رزق کا تنگ کرنا اور کشادہ کرنا خدا ہی کا فعل ہے، کسی کو اس میں دخل نہیں ہے۔

دل کو پاکیزہ رکھنا چاہیے، حق تعالیٰ کی جائے نظر یعنی دل کو مخلوق کے منظر سے زیب و زینت میں کمتر نہیں کرنا چاہیے، دل کی پاکیزگی ذکر سے وابستہ ہے، لہٰذا ذکر و فکر میں مداومت کریں اور سبق باطن کو عزیز رکھیں۔

جس کے دو دن مساوی گذریں وہ گھاٹے میں ہے، اپنے اوقات کو وظائف و طاعات میں مصروف رکھو، اس فرصتِ قلیلہ کو تعمیر باطن اور تنویرِ قلب میں لگا دو، تعمیرِ ظاہر تخریبِ باطن کا سبب ہے اور تخریبِ ظاہر تعمیرِ باطن کا اور ہم بوالہوس تعمیر ظاہر ہی کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں، بھلا باطن کی ایسی صورت میں کیا خاک خبر گیری ہوسکے گی۔

صحبتِ صلحا و فقرائے پابند شرع کی طرف راغب رہو، جس جگہ خلافِ شرع دیکھو وہاں سے گریزاں اور یکسو ہو جاؤ۔

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

بولیے