آخر اس دارِ فنا کو چھوڑنا ہے اور دارِ جزا و بقا میں پہنچنا ہے، لہٰذا نفسانیت اور تکبر کو اپنے اندر سے نکال کر پھینک دے اور اعمال پر بھروسہ نہ کر، فضل و کرم غفار پر نظر رکھ، جہاں تک ہوسکے لوگوں کے دلوں کو راحت پہنچا اور مخلوق سے ترحم و شفقت کا معاملہ کر اور اپنے آپ کو بری صفات سے علٰیحدہ رکھ۔
آخر اس دارِ فنا کو چھوڑنا ہے اور دارِ جزا و بقا میں پہنچنا ہے، لہٰذا نفسانیت اور تکبر کو اپنے اندر سے نکال کر پھینک دے اور اعمال پر بھروسہ نہ کر، فضل و کرم غفار پر نظر رکھ، جہاں تک ہوسکے لوگوں کے دلوں کو راحت پہنچا اور مخلوق سے ترحم و شفقت کا معاملہ کر اور اپنے آپ کو بری صفات سے علٰیحدہ رکھ۔
شاہ عبدالرحیم دہلوی
MORE BYشاہ عبدالرحیم دہلوی
آخر اس دارِ فنا کو چھوڑنا ہے اور دارِ جزا و بقا میں پہنچنا ہے، لہٰذا نفسانیت اور تکبر کو اپنے اندر سے نکال کر پھینک دے اور اعمال پر بھروسہ نہ کر، فضل و کرم غفار پر نظر رکھ، جہاں تک ہوسکے لوگوں کے دلوں کو راحت پہنچا اور مخلوق سے ترحم و شفقت کا معاملہ کر اور اپنے آپ کو بری صفات سے علٰیحدہ رکھ۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.