Font by Mehr Nastaliq Web

آخر اس دارِ فنا کو چھوڑنا ہے اور دارِ جزا و بقا میں پہنچنا ہے، لہٰذا نفسانیت اور تکبر کو اپنے اندر سے نکال کر پھینک دے اور اعمال پر بھروسہ نہ کر، فضل و کرم غفار پر نظر رکھ، جہاں تک ہوسکے لوگوں کے دلوں کو راحت پہنچا اور مخلوق سے ترحم و شفقت کا معاملہ کر اور اپنے آپ کو بری صفات سے علٰیحدہ رکھ۔

شاہ عبدالرحیم دہلوی

آخر اس دارِ فنا کو چھوڑنا ہے اور دارِ جزا و بقا میں پہنچنا ہے، لہٰذا نفسانیت اور تکبر کو اپنے اندر سے نکال کر پھینک دے اور اعمال پر بھروسہ نہ کر، فضل و کرم غفار پر نظر رکھ، جہاں تک ہوسکے لوگوں کے دلوں کو راحت پہنچا اور مخلوق سے ترحم و شفقت کا معاملہ کر اور اپنے آپ کو بری صفات سے علٰیحدہ رکھ۔

شاہ عبدالرحیم دہلوی

MORE BYشاہ عبدالرحیم دہلوی

    آخر اس دارِ فنا کو چھوڑنا ہے اور دارِ جزا و بقا میں پہنچنا ہے، لہٰذا نفسانیت اور تکبر کو اپنے اندر سے نکال کر پھینک دے اور اعمال پر بھروسہ نہ کر، فضل و کرم غفار پر نظر رکھ، جہاں تک ہوسکے لوگوں کے دلوں کو راحت پہنچا اور مخلوق سے ترحم و شفقت کا معاملہ کر اور اپنے آپ کو بری صفات سے علٰیحدہ رکھ۔

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے