صوفیائے خام ذکر و فکر کو اہم الہام سمجھ کر فرائض و سنن کی ادائیگی میں تساہلی برتتے ہیں، چلوں اور ریاضتوں کو اختیار کر کے جمعہ و جماعت کو ترک کر دیتے ہیں، وہ نہیں جانتے کہ جماعت کے ساتھ ایک فرض نماز کی ادائیگی ان کے ہزاروں چلوں سے بہتر ہے، ہاں ذکر و فکر وجو آدابِ شرعی کی مراعات کے ساتھ ہوں بہت بہتر و ضروری ہے، ناقص علما بھی نوافل کی ترویج میں کوشاں رہتے ہیں اور فرائض کو خراب و ابتر رکھتے ہیں۔
صوفیائے خام ذکر و فکر کو اہم الہام سمجھ کر فرائض و سنن کی ادائیگی میں تساہلی برتتے ہیں، چلوں اور ریاضتوں کو اختیار کر کے جمعہ و جماعت کو ترک کر دیتے ہیں، وہ نہیں جانتے کہ جماعت کے ساتھ ایک فرض نماز کی ادائیگی ان کے ہزاروں چلوں سے بہتر ہے، ہاں ذکر و فکر وجو آدابِ شرعی کی مراعات کے ساتھ ہوں بہت بہتر و ضروری ہے، ناقص علما بھی نوافل کی ترویج میں کوشاں رہتے ہیں اور فرائض کو خراب و ابتر رکھتے ہیں۔
شیخ احمد سرہندی
MORE BYشیخ احمد سرہندی
صوفیائے خام ذکر و فکر کو اہم الہام سمجھ کر فرائض و سنن کی ادائیگی میں تساہلی برتتے ہیں، چلوں اور ریاضتوں کو اختیار کر کے جمعہ و جماعت کو ترک کر دیتے ہیں، وہ نہیں جانتے کہ جماعت کے ساتھ ایک فرض نماز کی ادائیگی ان کے ہزاروں چلوں سے بہتر ہے، ہاں ذکر و فکر وجو آدابِ شرعی کی مراعات کے ساتھ ہوں بہت بہتر و ضروری ہے، ناقص علما بھی نوافل کی ترویج میں کوشاں رہتے ہیں اور فرائض کو خراب و ابتر رکھتے ہیں۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.