Font by Mehr Nastaliq Web
Sheikh Ahmad Sirhindi's Photo'

شیخ احمد سرہندی

1564 - 1624 | سرہند, بھارت

دسویں صدی ہجری کے نہایت ہی مشہور صوفی جو مجدد الف ثانی سے معروف ہیں۔

دسویں صدی ہجری کے نہایت ہی مشہور صوفی جو مجدد الف ثانی سے معروف ہیں۔

شیخ احمد سرہندی کے صوفی اقوال

باعتبار

شریعت تمام دنیوی و اخروی سعادتوں کی ضامن ہے، کوئی مطلوب ایسا نہیں کہ اس کی تکمیل کے لیے شریعت کے علاوہ کسی اور چیز کی احتیاج واقع ہو، طریقت و حقیقت جو صوفیہ کا ما بہ الامتیاز ہے، دونوں شریعت کے خادم اور خلاص کے حصول میں معاون ہیں، اس طرح طریقت و حقیقت کے حصول کا مقصد محض شریعت کو اس کی اصل روح کے ساتھ عمل میں لانے کا ذریعہ ہے نہ کہ کوئی اور بات جو شریعت کے دائرے سے خارج ہو۔

جن اعمال سے تقربِ خداوندی حاصل کیا جاتا ہے وہ یا تو فرائض ہیں یا نوافل، نوافل کی فرائض کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں، اپنے وقت پر کسی فرض کی ادائیگی ایک ہزار سال کے نوافل سے بہتر ہے، اگر چہ وہ نیت خالص کے ساتھ ادا کئے جائیں۔

اہلِ خانہ تمہاری رعیت ہیں، قیامت کے روز ان کی نسبت تم سے پرستش ہوگی۔

کام کا مدار دل پر ہے، اگر دل حق تعالیٰ کے غیر سے گرفتار ہے تو خراب اور ابتر ہے، صرف ظاہری اعمال اور رسمی عبادتوں سے کچھ نہیں ہوسکتا۔

اہلِ کرم کا طریقۂ ایثار یعنی غیر کی حاجت کو اپنی حاجت پر مقدم رکھنا ہے۔

شریعت اور طریقت دو الگ الگ کوچے ہیں، جن کی راہ و رسم ایک دوسرے سے جدا اور جن کا قانون ایک دوسرے سے الگ ہے۔

جو ضرورت گناہ پر مجبور کرے مردود ہے۔

اس وقت عالم میں بدعات کا اس کثرت سے ظہور ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ ظلمات کا دریا امنڈ رہا ہے اور سنت کا نور اس مواجِ دریا میں اس کے مقابلہ میں اس طرح ٹمٹما رہا ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ رات کے اندھیرے میں کہیں کہیں جگنو اپنی چمک دکھا رہا ہے۔

مخدوما! فقیر کو ایسی باتوں کے سننے کی تاب نہیں، بے اختیار میری رگِ فاروقی حرکت میں آجاتی ہے اور تاویل و توجیہ کا موقع نہیں دیتی، ایسی باتوں کے قائل شیخ کبیر یمنی ہوں یا شیخ اکبر شامی، ہمیں کلامِ محمدِ عربی درکار ہے، نہ کہ کلام محی الدین ابن عربی و صدرالدین قونوی اور شیخ عبدالرزاق کاشی، ہم کو نص سے کام ہے نہ کہ قص سے، فتوحاتِ مدینہ نے فتوحاتِ مکیہ سے مستغنی بنا دیا ہے۔

جو شخص جنت کا طالب ہے وہ خیرات کیا کرے اور جو دوزخ سے ڈرتا ہے وہ اپنی شہواتِ گناہ کو چھوڑ دے۔

کسی انسان کے ایمان اور عقیدے میں سب سے زیادہ خلل ڈالنے والی چیز دولت ہے، اس سے بڑھ کر کچھ نہیں۔

زندگی کے لمحے بہت کم ہیں لیکن محشر کی راحت یا عذاب انہیں پر مرتبہ ہوگا۔

پیر ہے کہ جس کے وسیلہ سے خدائے عزوجل تک پہنچتے ہیں، جو دنیا و آخرت کی تمام سعادتوں سے بڑھ کر ہے، پیر ہی کے وسیلہ سے نفسِ امارہ جو بذاتِ خود خبیث ہے پاک ہو جاتا ہے اور امارگی سے اطمینان تک پہنچتا ہے۔

فرزندانِ عزیز! دل میں کڑھ رہے ہیں اور اس جدائی سے بے چین ہیں مگر میں سمجھتا ہوں کہ میرا شوق ان کے شوق سے بڑھا ہوا ہے، اگرچہ تقاضائے قیاس یہ ہے کہ اولاد کو ماں باپ سے زیادہ محتاج ہوا کرتی ہیں مگر مقررہ اصول یہی ہے کہ باپ کو اولاد سے زیادہ تعلق ہوتا ہے، اسلاف سے یہی چلا آ رہا ہے اور یہی تجربہ ہے۔

نرم خوامت واضع مؤمن پر دوزخ حرام ہے جس کو نرمی عطا ہوئی اسے دنیا کی بہتری عطا ہوئی۔

وقت ازمائش اگر چہ تلخ اور بے مزہ ہے لیکن اگر توفیق ہو تو بہت غنیمت ہے، آج کل جب کہ آپ کو فرصت کا ایک لمحہ اور ایک لحظہ بھی بیکار مت ضائع کرو، تین چیز ہیں تلاوتِ قرآن، طویل قرات کے ساتھ ادائے نماز، کلمۂ طیبہ کا ورد، ان میں کسی ایک کا ورد ہر وقت رکھو، کلمۂ لا سے نفس کے معبودوں کی نفی کرو، اپنے مقاصد اور اپنی مرادوں کو دفع کرو اپنی مراد مانگنا بھی اپنی معبودیت کا دعویٰ ہے۔

پیر وہ ہے جو مرید کی نجاستِ معنویہ کو اپنے قلب و روح سے صاف کرتا ہے اور اس کے معدہ کو پاک کرتا ہے، ان توجہات میں جو بعض طالبوں کی نسبت وقوع میں آتی ہیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کی باطنی نجاستوں کے پاک کرنے میں صاحبِ توجہ کو بھی آلودگی پہنچتی ہے اور کچھ دیر تک مکدر رکھتی ہے۔

بغیر مانگے اگر حلال مال ملے تو رد نہ کرو کہ خدا کا بھیجا ہوا ہے۔

صوفیہ کا عمل حلت و حرمت میں سند نہیں، کیا اتنا کافی نہیں کہ ہم ان کو معذور رکھیں اور ملامت نہ کریں اور ان کا معاملہ خدا کے سپرد کر دیں، ان معاملہ میں تو امام ابو حنیفہ، امام ابو یوسف اور امام محمد کا قول معتبر ہے نہ کہ ابو بکر شبلی، ابوالحسن نوری کا عمل، اس زمانے کے صوفیائے خام نے اپنے پیروں کے عمل کو بہانہ بنا کر سرود و رقص کو اپنے دین و ملت کے طور پر اختیار کیا ہے اور اس کو طاعت و عبادت بنا لیا ہے۔

نیکیوں کی صحبت کارِ نیک سے بہتر اور بدوں کی صحبت کارِ بد سے بد تر ہے۔

صوفیائے خام ذکر و فکر کو اہم الہام سمجھ کر فرائض و سنن کی ادائیگی میں تساہلی برتتے ہیں، چلوں اور ریاضتوں کو اختیار کر کے جمعہ و جماعت کو ترک کر دیتے ہیں، وہ نہیں جانتے کہ جماعت کے ساتھ ایک فرض نماز کی ادائیگی ان کے ہزاروں چلوں سے بہتر ہے، ہاں ذکر و فکر وجو آدابِ شرعی کی مراعات کے ساتھ ہوں بہت بہتر و ضروری ہے، ناقص علما بھی نوافل کی ترویج میں کوشاں رہتے ہیں اور فرائض کو خراب و ابتر رکھتے ہیں۔

یہ کس قدر بڑی نعمت ہے کہ خدا اپنے بندوں کو جوانی میں توبہ کی توفیق عطا فرمائے اور اس پر استقامت بخشے۔

خدا سے حسنِ ظن یعنی بھلائی کی امید رکھو، مغفرت کا موجب ہوگا۔

فرصت، صحت اور فراغت کو غنیمت جاننا چاہیے اور ہمہ وقت ذکر الٰہی میں مشغول رہنا چاہیے۔

حقیقی تصفیہ و تزکیہ اعمالِ صالحہ کے کرنے پر موقوف ہے جو مالک کی مرضیات میں شامل ہوں اور یہ بات بعثت کے حقیقی تصفیہ و تزکیہ میسر نہیں آ سکتا، وہ صفائی جو اہلِ فسق کو حاصل ہوتی ہے وہ نفس کی صفائی ہے قلب کی صفائی نہیں صفائی نفس سوائے ضلالت کے کسی اور چیز کو نہیں بڑھائی اور سوائے خسارت کے کوئی اور راستہ نہیں دکھاتی باقی بعض امورِ غیبی کا کشف جو کفار و اہلِ فسق کو صفائی نفس کے وقت کبھی حاصل ہو جاتا ہے وہ استدراج ہے جس کا حاصل بربادی و خسارہ کے علاوہ اس جماعت کے حق میں کچھ نہیں۔

فرزندانِ گرامی جس قدر ہمیشہ ساتھ رہنے کے خواہش مند ہیں، اسی قدر ہم بھی مشتاق ہیں مگر اس کا کیا علاج کہ تمام آرزوئیں میسر نہیں ہوا کرتیں، لشکر میں اس طرح بے اختیار اور بے بس رہنے کو بہت غنیمت جانتا ہوں، اس جگہ وہ میسر ہے کہ دوسری جگہ بظاہر وہ میسر نہیں آ سکتا، اس جگہ کے علوم و معارف احوال و مقامات کچھ اور ہی ہیں، ایک رکاوٹ جو بادشاہ کی جانب سے ہے، میں اس کو خدا کی انتہائی رضا مندی کا دریچہ تصور کرتا ہوں اور اس قید ہی میں اپنی سعادت سمجھتا ہوں، خصوصاً ان جھگڑوں کے زمانے میں عجیب کاروبار ہے۔

فضلیت تمام تر سنت سنیہ کی پیروی سے وابستہ اور امتیاز و اعزاز شریعت پر عمل کرنے سے مربوط ہے مثلاً دوپہر کا سونا جو اتباع سنت کی نیت سے واقع ہو، کروڑوں شب بیداریوں سے افضل اور زکوٰۃ کا ایک پیسہ ادا کرنا سونے کے پہاڑ خرچ کر دینے سے جو اپنی طرف سے ہوا فضل ہے۔

انسان مرکب ہے عالم خلق سے جو اس کا ظاہر ہے اور عالمِ امر سے جو اس کا باطن ہے۔

God does not unite with anything, nor does anything unite with God.

God does not unite with anything, nor does anything unite with God.

Lower-self desires all out superiority over one’s fellow-beings.

Lower-self desires all out superiority over one’s fellow-beings.

The disappearance of individual identity in fana is visual rather than existential.

The disappearance of individual identity in fana is visual rather than existential.

In whom element of love dominates, grief and anxiety will also be dominant in him.

In whom element of love dominates, grief and anxiety will also be dominant in him.

The belief in the Unity of Being is not required for the realisation of fana and baga. Whatever is seen, heard or felt in mystical experiences is other than God; the- mystic should negate them and realise that God is beyond them, i,e., for fana, we need only the perception of One Being (tawhid shuhudi) so that we can forget the not-Divine.

The belief in the Unity of Being is not required for the realisation of fana and baga. Whatever is seen, heard or felt in mystical experiences is other than God; the- mystic should negate them and realise that God is beyond them, i,e., for fana, we need only the perception of One Being (tawhid shuhudi) so that we can forget the not-Divine.

Visions and auditions are not the end of Sufism; they are mere shadows, and God transcends them absolutely.

Visions and auditions are not the end of Sufism; they are mere shadows, and God transcends them absolutely.

Existence is not identical with Essence; the latter transcends existence, What God has finally revealed to me as an act of grace is that the first determination of the Divine Essence is Existence (wujud) which embraces everything and synthesises all contradictions, and which is pure goodness and abundant bliss.

Existence is not identical with Essence; the latter transcends existence, What God has finally revealed to me as an act of grace is that the first determination of the Divine Essence is Existence (wujud) which embraces everything and synthesises all contradictions, and which is pure goodness and abundant bliss.

Our way of spiritual training is association, because renown lies in retreat and in renown lies perdition.

Our way of spiritual training is association, because renown lies in retreat and in renown lies perdition.

The Sufi state of fana and baga is only a matter of experience, it has no existential significance i,e., passing away (fana) and abiding in God (baga) are experiential (shuhudi) not existential (wujudi) Man does not become God and is not united with Him. The servant is servant for everrand the Lord is Lord eternally.

The Sufi state of fana and baga is only a matter of experience, it has no existential significance i,e., passing away (fana) and abiding in God (baga) are experiential (shuhudi) not existential (wujudi) Man does not become God and is not united with Him. The servant is servant for everrand the Lord is Lord eternally.

Worldly tribulations, apparently are inflictions, but in reality they cause progress.

Worldly tribulations, apparently are inflictions, but in reality they cause progress.

Negate all that come to in vision and understanding even if it is the vision of the Unity in multiplicity. For the real Unity does not appear in multiplicity: what actually appears is a reflection or an image of that Unity, not the Unity itself, unless you reach wonder and unknowing, you will not attain annihilation.

Negate all that come to in vision and understanding even if it is the vision of the Unity in multiplicity. For the real Unity does not appear in multiplicity: what actually appears is a reflection or an image of that Unity, not the Unity itself, unless you reach wonder and unknowing, you will not attain annihilation.

The rich and the worldtings are implicated in big calamity. They see the illusory happiness of the world and eternal suffering is hidden from them.

The rich and the worldtings are implicated in big calamity. They see the illusory happiness of the world and eternal suffering is hidden from them.

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

بولیے