مخدوما! فقیر کو ایسی باتوں کے سننے کی تاب نہیں، بے اختیار میری رگِ فاروقی حرکت میں آجاتی ہے اور تاویل و توجیہ کا موقع نہیں دیتی، ایسی باتوں کے قائل شیخ کبیر یمنی ہوں یا شیخ اکبر شامی، ہمیں کلامِ محمدِ عربی درکار ہے، نہ کہ کلام محی الدین ابن عربی و صدرالدین قونوی اور شیخ عبدالرزاق کاشی، ہم کو نص سے کام ہے نہ کہ قص سے، فتوحاتِ مدینہ نے فتوحاتِ مکیہ سے مستغنی بنا دیا ہے۔
مخدوما! فقیر کو ایسی باتوں کے سننے کی تاب نہیں، بے اختیار میری رگِ فاروقی حرکت میں آجاتی ہے اور تاویل و توجیہ کا موقع نہیں دیتی، ایسی باتوں کے قائل شیخ کبیر یمنی ہوں یا شیخ اکبر شامی، ہمیں کلامِ محمدِ عربی درکار ہے، نہ کہ کلام محی الدین ابن عربی و صدرالدین قونوی اور شیخ عبدالرزاق کاشی، ہم کو نص سے کام ہے نہ کہ قص سے، فتوحاتِ مدینہ نے فتوحاتِ مکیہ سے مستغنی بنا دیا ہے۔
شیخ احمد سرہندی
MORE BYشیخ احمد سرہندی
مخدوما! فقیر کو ایسی باتوں کے سننے کی تاب نہیں، بے اختیار میری رگِ فاروقی حرکت میں آجاتی ہے اور تاویل و توجیہ کا موقع نہیں دیتی، ایسی باتوں کے قائل شیخ کبیر یمنی ہوں یا شیخ اکبر شامی، ہمیں کلامِ محمدِ عربی درکار ہے، نہ کہ کلام محی الدین ابن عربی و صدرالدین قونوی اور شیخ عبدالرزاق کاشی، ہم کو نص سے کام ہے نہ کہ قص سے، فتوحاتِ مدینہ نے فتوحاتِ مکیہ سے مستغنی بنا دیا ہے۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.