فرزندانِ گرامی جس قدر ہمیشہ ساتھ رہنے کے خواہش مند ہیں، اسی قدر ہم بھی مشتاق ہیں مگر اس کا کیا علاج کہ تمام آرزوئیں میسر نہیں ہوا کرتیں، لشکر میں اس طرح بے اختیار اور بے بس رہنے کو بہت غنیمت جانتا ہوں، اس جگہ وہ میسر ہے کہ دوسری جگہ بظاہر وہ میسر نہیں آ سکتا، اس جگہ کے علوم و معارف احوال و مقامات کچھ اور ہی ہیں، ایک رکاوٹ جو بادشاہ کی جانب سے ہے، میں اس کو خدا کی انتہائی رضا مندی کا دریچہ تصور کرتا ہوں اور اس قید ہی میں اپنی سعادت سمجھتا ہوں، خصوصاً ان جھگڑوں کے زمانے میں عجیب کاروبار ہے۔
فرزندانِ گرامی جس قدر ہمیشہ ساتھ رہنے کے خواہش مند ہیں، اسی قدر ہم بھی مشتاق ہیں مگر اس کا کیا علاج کہ تمام آرزوئیں میسر نہیں ہوا کرتیں، لشکر میں اس طرح بے اختیار اور بے بس رہنے کو بہت غنیمت جانتا ہوں، اس جگہ وہ میسر ہے کہ دوسری جگہ بظاہر وہ میسر نہیں آ سکتا، اس جگہ کے علوم و معارف احوال و مقامات کچھ اور ہی ہیں، ایک رکاوٹ جو بادشاہ کی جانب سے ہے، میں اس کو خدا کی انتہائی رضا مندی کا دریچہ تصور کرتا ہوں اور اس قید ہی میں اپنی سعادت سمجھتا ہوں، خصوصاً ان جھگڑوں کے زمانے میں عجیب کاروبار ہے۔
شیخ احمد سرہندی
MORE BYشیخ احمد سرہندی
فرزندانِ گرامی جس قدر ہمیشہ ساتھ رہنے کے خواہش مند ہیں، اسی قدر ہم بھی مشتاق ہیں مگر اس کا کیا علاج کہ تمام آرزوئیں میسر نہیں ہوا کرتیں، لشکر میں اس طرح بے اختیار اور بے بس رہنے کو بہت غنیمت جانتا ہوں، اس جگہ وہ میسر ہے کہ دوسری جگہ بظاہر وہ میسر نہیں آ سکتا، اس جگہ کے علوم و معارف احوال و مقامات کچھ اور ہی ہیں، ایک رکاوٹ جو بادشاہ کی جانب سے ہے، میں اس کو خدا کی انتہائی رضا مندی کا دریچہ تصور کرتا ہوں اور اس قید ہی میں اپنی سعادت سمجھتا ہوں، خصوصاً ان جھگڑوں کے زمانے میں عجیب کاروبار ہے۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.